
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے 21 افراد اور اداروں کو اپنی مقامی دہشت گرد فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ کابینہ کی قرارداد نمبر 63 برائے 2026 کے تحت کیا گیا، جس کے مطابق 16 افراد اور 5 اداروں کو باضابطہ طور پر دہشت گردی کی معاونت کرنے والی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور ایسے تمام مالی و تجارتی روابط کو روکنا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ان عناصر سے جڑے ہوں۔
فیصلے کے تحت تمام متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فہرست میں شامل افراد اور اداروں سے جڑے مالی یا تجارتی روابط کی فوری نشاندہی کریں اور قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر اثاثے منجمد کریں۔
یہ اقدام یو اے ای کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے اور خطے و عالمی امن کیلئے خطرات کو روکنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔
حکام کے مطابق ملک میں مشتبہ مالی سرگرمیوں کی نگرانی جاری ہے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تمام ذرائع کو ختم کرنے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
فہرست میں شامل افراد میں لبنانی شہری شامل ہیں جن میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قاصر اور دیگر نام شامل ہیں۔
جبکہ شامل اداروں میں بیت المال المسلمین، القرض الحسن ایسوسی ایشن، التسیلات کمپنی، دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈٹنگ اور الخبرا فار اکاؤنٹنگ و اسٹڈیز شامل ہیں، جو لبنان میں قائم ہیں۔
یہ فیصلہ یو اے ای کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔







