
خلیج اردو
دبئی / ابوظہبی، 23 جون 2025ء
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کی بڑی ایئرلائنز، بشمول امارات ایئرلائن، اتحاد ایئر ویز، فلائی دبئی اور ایئر عربیہ نے خطے کے متعدد ممالک کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ خطے میں فضائی حدود کی بندش اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
اتحاد ایئر ویز نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب کے لیے پروازیں 15 جولائی تک معطل رہیں گی۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ ابوظہبی سے گزرنے والے مسافروں کو متبادل سفری انتظامات فراہم کیے جا رہے ہیں، تاہم وہ مسافر جن کے سفر کی آخری منزل متاثرہ علاقوں میں ہے، انہیں روانگی کے مقام سے ہی قبول نہیں کیا جا رہا۔ اتحاد ایئر ویز نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے اور فضائی حدود کی مزید بندش یا دیگر اچانک تبدیلیاں کسی بھی وقت ممکن ہیں۔
فلائی دبئی نے بھی ایران، عراق، شام، اسرائیل اور روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے لیے پروازیں 30 جون 2025 تک معطل کر دی ہیں۔ ایئرلائن نے مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی بکنگ اور پرواز کی معلومات باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں کیونکہ کچھ پروازیں تاخیر یا متبادل روٹس کے تحت چلائی جا سکتی ہیں۔
امارات ایئرلائن نے بھی ایران (تہران) اور عراق (بغداد و بصرہ) کے لیے اپنی تمام پروازیں 30 جون تک عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
ایئر عربیہ، جو شارجہ سے پروازیں چلاتی ہے، نے ایران، عراق، روس، آرمینیا، جارجیا اور آذربائیجان کے لیے پروازیں مہینے کے اختتام تک روک دی ہیں، جب کہ اردن کے لیے پروازیں 25 جون تک معطل رہیں گی۔
ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ جن مسافروں کی منزل ان متاثرہ علاقوں میں ہے، انہیں ان کی روانگی کی جگہ سے ہی سفر کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ماہرین ہوابازی کے مطابق امریکہ کی جانب سے فضائی کارروائی میں شامل ہونے کے بعد خطے میں فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے، اور یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔





