خلیج اردو
25 جنوری 2021
دبئی : کورونا وائرس کی ویکسین جہاں اس وبائی مرض سےنجات کا ذریعہ ہے وہاں اس کے حوالے سے کچھ احتیطاطی تدابیتر بھی ہیں جن پر سختی سے عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ہدیات یہ ہے کہ پہلی خوراک نقصان دہ یا پھر کسی بھی فائدہ کا نہیں اگر اس کے بعد دوسری خوراک نہ لی جائے۔ اسی لیے دوسری خوراک لازمی لیں تاکہ پریشانی سے بچ سکیں ۔
ابوظبہی میں این این سی کے اسپیشیلٹی اسپتال میں میڈیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر روی اروڑا کا کہنا ہے کہ دوسری خوراک پہلی کی نسبت زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ وہی ہے جو جسم میں میموری خلیوں ، ہیلپر-ٹی خلیوں اور پختہ بی خلیوں کی حیثیت سے انفیکشن کو روکنے کیلئے کام آٗے گا۔
امریکہ میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز نے وضاحت کی ہے کہ پہلی خوراک کے بعد وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کیلئے ماحول سازگار بنایا جاتا ہے اور دوسری خوراک سے قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے اور اگر نہ لی جائے تو فائدہ نہیں رہتا ۔ چونکہ اس میں کئی ہفتوے لگ سکتے ہیں اسی لیے ضروری ہے کہ پہلی خوراک کے بعد جسم کو محفوظ رکھنے کیلئے اور قوت مدافعت کو قائم رکھنے کیلئے دوسری خوراک لی جائے ۔
مختلف ماہرین کی گفتگو اور تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ پہلی خوراک اور دوسری خوراک کے درمیان کا واقفہ اور احتیطاطی تدابیر اس وجہ سے ہے کہ جسم کو اپنا مدافعتی نظام مضبوط بنانے میں مدد ملے اور اس کیلئے انہیں اس عمل کے دوران خطرات سے محفوظ بنانے کیلئے حفاظت بھی اور یہ احتیطاطی تدابیر اور مختلف چیزوں سے اور عوام سے پرہیز سے ممکن ہے۔
مانخول کے ایسٹر اسپتال میں سانس کی دوائی کے ماہر ڈاکٹر سندیپ پرگی نے پہلی خوراک لینے کے بعد اس فہرصت کی نشاندہی کی ہے جس میں بتایا جائے کہ پہلی کرواک کے بعد کونسے کام کیے جائیں اور کنوسے کام نہ کیے جائیں۔
> جس جگہ پر ٹیکہ لگایا جائے اس حصے کو بازو پر نہ رگڑیں اور کوشش کریں کہ اسے زیادہ حساس نہ بنائیں بصورت دیگر وہ انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے
> بخار ، جسمانی تکلیف ، جلدی اور سانس لینے میں دشواری جیسے علامات کا مشاہدہ کریں اور اگر علامات بڑھ جاتے ہیں اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے تو ، ڈاکٹر سے رجوع کریں
> صحت مند غذا کھائیں کیونکہ پھلوں اور سبزیوں کی مقدار میں اضافہ انٹی باڈی کے بہتر ردعمل سے وابستہ ہے اور اسی سے ہی آپ کو جس مقصد کیلئے آپ کو ویکسین دی جاتی ہے۔
> تمباکو نوشی اور الکوحل سے پرہیز کریں یہ آپ کیلئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
Source : Khaleej Times






