
خلیج اردو
ابوظبی، 30 اکتوبر 2025
ابوظبی کے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاسپورٹ کنٹرول اور بورڈنگ گیٹس پر لمبی قطاریں جلد ماضی کا حصہ بن جائیں گی، کیونکہ ایئرپورٹ انتظامیہ نے تمام مسافر چیک پوائنٹس پر فیشل ریکگنیشن پر مبنی بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرانے کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ نیا نظام بغیر کسی جسمانی رابطے کے تیز اور محفوظ طریقے سے شناخت کے عمل کو مکمل کرے گا، جس میں جلد ہی ٹرانزٹ مسافر بھی شامل ہوں گے۔ مسافروں کا بائیومیٹرک ڈیٹا روانگی کے وقت جمع کیا جائے گا تاکہ ابوظبی پہنچنے والے ٹرانزٹ مسافر بلا تاخیر ٹرمینل سے گزر سکیں اور ایئرپورٹ کی سہولیات سے زیادہ وقت لطف اندوز ہو سکیں۔
ابوظبی ایئرپورٹس کی منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او ایلینا سورلینی نے بتایا کہ فیشل ریکگنیشن سسٹم “غیر مداخلتی، تیز اور ہموار” ہے، جو پراسیسنگ کے وقت کو کم، گنجائش کو بڑھاتا اور مجموعی سفری تجربہ بہتر بناتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سسٹم فی الحال نو میں سے پانچ چیک پوائنٹس پر فعال ہے جبکہ اگلے مرحلے میں باقی چار پوائنٹس پر بھی اس کا نفاذ مکمل کیا جائے گا۔
سورلینی نے بتایا کہ زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ اپنی افتتاحی ٹرمینل A کے صرف دو سال بعد ہی توسیع کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ تیزی سے بڑھتے ہوئے مسافروں کی تعداد کو سنبھالا جا سکے۔ ان کے مطابق 2023 میں افتتاح کے بعد مسافروں کی تعداد 17 ملین سے بڑھ کر رواں سال 33 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے، جو 90 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “نیا ٹرمینل ہماری ترقی کا اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے، جس نے گنجائش بڑھائی، ٹریڈ اور سیاحت کے فروغ میں معاونت کی اور ایئرپورٹ کو ابوظبی کی معیشت سے ہم آہنگ کیا۔”
ابوظبی ایئرپورٹس انتظامیہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام بھی لا رہی ہے جو آپریشنل رکاوٹوں کی پیشگوئی کر کے انہیں کم کرے گا۔ سورلینی نے بتایا کہ کمپنی “ڈیجیٹل ٹوئن پلیٹ فارم” کا تجربہ کر رہی ہے، جو ایئرپورٹ کے ماحولیاتی نظام کی عکاسی کرتا ہے اور ایئر لائنز، گراؤنڈ ہینڈلرز اور دیگر شراکت داروں سے حاصل کردہ ڈیٹا سے سیکھتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے ایئرپورٹ رئیل ٹائم میں وسائل کی از سرِ نو تقسیم کر کے تاخیر اور اخراجات کو کم کر سکے گا۔
مستقبل میں ایئرپورٹ انتظامیہ کا ہدف AI کو نہ صرف آپریشنز بلکہ مسافروں کے لیے ذاتی نوعیت کے تجربات میں بھی استعمال کرنا ہے۔ سورلینی کے مطابق ایئرپورٹ ایپ کے ذریعے مسافروں کو پارکنگ، چیک اِن، قطاروں کی لمبائی اور گیٹ تک پہنچنے کے وقت سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ پرسکون اور بہتر سفر کا لطف اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ “صنعت کو مسافروں کو ایک ٹرانزیکشن نہیں بلکہ کسٹمر کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہر سفر ایک یادگار تجربہ بنے، خواہ وہ روانگی کا ہو یا ابوظبی آمد کا۔”







