متحدہ عرب امارات

ابوظبی کا 2030 تک جی ڈی پی دوگنا کرنے، 18 ہزار نئے ہوٹل کمروں اور 2 لاکھ 16 ہزار نوکریوں کا ہدف

خلیج اردو
ابوظبی، 30 اکتوبر 2025
ابوظبی نے 2030 تک سیاحت کے شعبے میں اپنا جی ڈی پی حصہ دوگنا کرنے، 18 ہزار نئے ہوٹل کمرے شامل کرنے اور 2 لاکھ 16 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ منصوبہ ایک ایسے ویلیو ڈرائیون ماڈل کا حصہ ہے جو ثقافت، پائیداری اور اختراع کو یکجا کرتا ہے۔

محکمہ ثقافت و سیاحت ابوظبی (DCT) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سعید الفزاری نے بتایا کہ “ابوظبی میں اپنایا گیا ماڈل معیار، ثقافت اور پائیداری کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ ابوظبی دنیا میں پانچ ستارہ ہوٹلوں کے سب سے زیادہ ارتکاز والا شہر ہے، اور اس وقت 21 نئی پراپرٹیز زیر تعمیر ہیں۔ ہمارا ہدف سالانہ 7 فیصد سیاحتی اضافہ، 18 ہزار نئے کمروں کا اضافہ اور سیاحتی جی ڈی پی کو 45 ارب سے بڑھا کر 90 ارب درہم (24.5 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچانا ہے۔”

یہ اعداد و شمار امارت کی ’ٹورزم اسٹریٹیجی 2030‘ کے مطابق ہیں، تاہم 2 لاکھ 16 ہزار نوکریوں کا ہدف پہلے بتائے گئے 1 لاکھ 78 ہزار عہدوں سے زیادہ ہے، جو اسٹریٹیجی میں نظرثانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ الفزاری کے مطابق، “2030 تک ہمارا مقصد اس صنعت میں 2 لاکھ 16 ہزار ملازمتیں پیدا کرنا ہے، جس کے لیے نوجوانوں کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور تخلیقی صنعتوں میں مہارت دینا ضروری ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ ابوظبی سالانہ 25.7 ارب درہم (7 ارب امریکی ڈالر) سیاحت، ثقافت اور تخلیقی شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ فضائی روابط میں بھی نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے، جہاں اب 30 ایئر لائنز 120 بین الاقوامی مقامات تک پروازیں چلا رہی ہیں۔ بائیو میٹرک ایئرپورٹ سسٹم اور ای سروسز کے ذریعے سیاحوں کے لیے مزید سہل تجربہ فراہم کیا جا رہا ہے۔

ابوظبی میں ملک کے 75 فیصد مینگرووز پائے جاتے ہیں، جن کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ یونیسکو کے فہرست شدہ العین کے تاریخی مقامات کی حفاظت بھی جاری ہے۔ ثقافتی منصوبوں میں سادیات کلچرل ڈسٹرکٹ نمایاں ہے، جو لوور ابوظبی سمیت جلد کھلنے والے نیچرل ہسٹری میوزیم اور زاید نیشنل میوزیم جیسے عالمی اداروں کا مرکز ہے۔

سعید الفزاری نے تصدیق کی کہ نیچرل ہسٹری میوزیم ابوظبی 22 نومبر کو اور زاید نیشنل میوزیم 3 دسمبر کو کھولے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ابوظبی صرف عالمی سفری رحجانات کے ساتھ قدم نہیں ملا رہا بلکہ انہیں تشکیل دینے میں کردار ادا کر رہا ہے۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button