متحدہ عرب امارات

کورونا زدہ دنیا میں سکون کا سانس لینے کیلیے دنیا بھر کے سیاحوں کی ترجیح دبئی

خلیج اردو
18 جنوری 2021
دبئی : ایسے میں جب پوری دنیا نے کورونا وائرس کے پیش نظر اپنے بارڈر پر سختی شروع کی ہے اور مختلف ممالک میں سخت لاک ڈاؤن ہے ، دبئی نے اپنے دروازے کھول دیئے ہیں اور اپنے آپ کو قرینطینہ فری فضا کے طور پر پیش کیا ہے۔

جہاں فیس ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے وہاں سیاحت کے لئے مشہور اس ریاست میں زندگی معمول کی مطابق لگ رہی ہے۔ یہاں ریسٹورنٹ ، ہوٹل ، میگا مال اور دیگر کاروباری مراکز کھلے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کھیلوں سے متعلق ستاروں اور ٹی وی سیلبریٹیز کی تصاویریں گردش کررہی ہیں جہاں وہ ساحل سمندر اور بیچز کلب پر زندگی سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

دبئی جس نے اپنے کورونا وباء سے پہلے کی صورت حال کا ایک تہائی حصہ ریکور کر لیا ہے، اب دنیا کے سب سے بڑے ایئرلائنز کی مدد سے روس اور برطانیہ کو سیاحت میں پھیچے چھوڑ چکے ہیں۔ یہاں روس سے آئے سیاح دیمتری میلنکو جو دبئی میں گھومنے کیلیے آیا ہے کیونکہ ان کے سامنے محفوظ اور منفرد اور اعلی شان سیاحت کا موقع دبئی میں ہی ملتا ہے، باقی دنیا اب بندشوں میں گری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ڈر نہیں لگتا ، یہاں ہر کوئی ماسک پہنتا ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ خوبصورتی ہے۔

پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ کے ساتھ جو ان کے آنے والے ملک پر منحصر ہے ، دبئی میں داخلہ آسان ہے۔ سیاح بنا کسی پریشانی کے جہاں آ سکتے ہیں۔ یہاں موسم خوشگوار ہے اور درجہ حرارت صرف 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو کہ معتدل اور خوشگوار موسم ہے۔

اپنی پڑوس میں تاریخی الفہدی کی موجودگی میں ماسکے پہنے سیاح آتے جاتے خوبصورت مقامات پر تصاویریں نکلوا رہے ہیں۔ ہر طرف عوام کو اگاہی دینے والے بینرز اور اسٹکرز موجود ہیں جو ان کے سمارٹ فون پر ڈسپلے ہوتے ہیں۔

ڈسٹرک ڈائریکٹر نصیر جمعہ بن سلیمان کا کہنا ہے کہ پہلے سیاحوں کا 100 یا 250 افراد پر مشتمل گروپ ہوتا تھا اور اب صرف 20 تک کے افراد پر مشتمل سیاحتی گروپ ہوتا ہے۔

دبئی میں سیاحت معاشی سرگرمیوں کیا محور رہی ہے۔ 2019 میں 16 ملین افراد نے دبئی کی سیر کی تھی جس کے بعد 2020 میں یہ حدف 20 ملین تک تھا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button