خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابھی بھی کچھ ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور انہی ممالک میں مقیم یو اے ای کے رہائشی اب پریشانی کا شکار ہو کر ایمگریشن حکام کو فون کالز کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان میں سے بیشتر رہائشیوں کے ویزے یا تو ایکسپائر ہو چکے یا ایکسپائر ہونے کے قریب ہیں لہذا انہیں اپنے اسٹیٹس پر حکام کی جانب سے واضاحت درکار ہے کہ آٰیا انکے ویزوں کے اسٹٰیٹس کے ساتھ اب کیا کیا جائے گا۔
آمر سنٹر کے ایک کسٹمر ایگیزیکٹو نے نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ "ہمیں ان لوگوں کی کالز آ رہی ہیں جن کے ویزے یا تو ایکسپائر ہوچکے ہیں ایکسپائر ہونے کے قریب ہیں اور لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے اس حوالے سے نئی گائیڈ لائنز کیا ہیں۔ لیکن ہمارے پاس اس مسئلے کے حوالے سے کوئی نئی معلومات موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا گیاہے”۔
کسمٹر ایگزیکٹو کا مزید کہنا ہے تھا کہ "ہم ان لوگوں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ انتظار کریں اور صورتحال کا جائزہ لیں اور جلدی میں نہ تو اپنے ویزے کینسل کروائیں اور نہ نئے انٹری پرمٹ کے لیے اپلائی کریں”۔
ایک بھارتی باشندے نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ اس بیوی گزشتہ سال بچے کو جنم دینے کے لیے بھارت گئی تھی واپس نہیں آ سکی اور اسے اپنی بیوی کے ویزے کے اسٹیٹس کے بارے میں واضح طور پر کچھ پتہ نہیں ہے۔
اس نے بتایا کہ ” میری بیوی کا ویزا 2022 تک کار آمد ہے لیکن چونکہ اسے یو اے ای سے باہر 6 ماہ ہوچکے ہیں اس لیے مجھے علم نہیں ہے کہ وہ اب اسی ویزے پر واپس آ پائے گی یا نہیں۔ مجھے کسی نے مشورہ دیا تھا کہ میں اس کا ویزا کینسل کرواؤں اور پھر نئے ویزے کے لیے اپلائی کروں لیکن مجھے نہیں علم کہ ایسا کرنا ٹھیک ہوگا یا نہیں”۔
اسی طرح سے متعدد ایسے تارکین وطن ہیں جو یو اے ای کی جانب سے عائد کی گئی سفری پابندیوں کے باعث اپنے آبائی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
نجی خبررساں ادارے کی جانب سے جب قانونی ماہرآشیش مہتا سے اس حوالے سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ "یو اے ای لاک ڈاؤن کی صورتحال میں نہیں ہے اور کچھ ممالک پر سفری پابندی عائد کی گئی ہے لہذا جس سے کچھ رہائشیوں کے ویزوں کے اسٹٰیٹس اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال انٹری رولز میں جو نرمی دی گئی تھی وہ 31 مارچ کو ختم ہوگئی تھی۔ لہذا ممکن کے ہے اب ایسے رہائشیوں پر معمول کے قانونین کا ہی اطلاق ہو، جس تحت ایکسپائر ویزوں کے حامل افراد امارات میں داخل نہیں ہو سکتے۔ تاہم، بہتر ہوگا ہے کہ اس حوالے سے GDRFA سے تصدیق کی جائے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "میں مشورہ دوں گا کہ لوگ پروازوں کی بحالی کا اتنظار کریں، کیونکہ ایسی صورتحال میں یو اے ای حکومت کوئی بھی اعلان نہیں کر سکتی”۔
خیال رہے کہ اس وقت یو اے ای حکومت نے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، جنوبی افریقہ ، نائیجیریا ، اور برازیل پر عارضی سفری پابندی عائد کر رکھی ہے۔
Source: Khaleej Times







