
خلیج اردو
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گزشتہ ہفتے ایک شہری سید میران کو جدہ کے لیے عمرہ پرواز کے چیک اِن کے دوران اس وقت روک دیا گیا جب انہوں نے واپسی کی ٹکٹ پیش نہ کی۔ متحدہ عرب امارات کے رہائشی میران نے چند دن مکہ مکرمہ میں قیام اور ممکنہ طور پر مدینہ منورہ جانے کا منصوبہ بنایا تھا، اسی لیے انہوں نے واپسی کا شیڈول طے نہیں کیا تھا۔ تاہم، ایئرلائن عملے نے انہیں بورڈنگ پاس جاری کرنے سے انکار کر دیا جب تک کہ وہ واپسی کی ٹکٹ نہ خرید لیں۔
یو اے ای کے ٹریول آپریٹرز کے مطابق ایئرلائنز اور سعودی حکام نے نئے ضوابط سخت کر دیے ہیں تاکہ ہر مسافر کے قیام کے دنوں اور واپسی کے شیڈول میں وضاحت رہے۔ اب تمام عمرہ زائرین کے لیے واپسی کی ٹکٹ لازمی قرار دی گئی ہے، خواہ ویزا کی نوعیت یا قومیت کچھ بھی ہو۔
ٹریول ایجنٹ قیصر محمود کے مطابق یہ قانون سعودی حکام کو ہر زائر کے قیام کے دورانیے کی درست معلومات فراہم کرتا ہے اور ویزا کی مدت سے تجاوز کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب نظام خود بخود ویزا کی مدت اور پرواز کی تاریخوں کا تقابل کرتا ہے اور اگر واپسی کی ٹکٹ موجود نہ ہو تو چیک اِن ممکن نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایجنٹس کو بھی اب روانگی سے قبل مسافروں کا مکمل سفری شیڈول سسٹم میں اپ لوڈ کرنا لازمی ہے، تاکہ کسی قسم کی تاخیر یا پریشانی نہ ہو۔
عمرہ آپریٹرز کے مطابق وہ زائرین بھی جنہوں نے نُسُک ایپ یا ایئرلائن کی ویب سائٹس سے براہِ راست ویزا اور پروازیں بُک کی ہیں، انہیں بھی اپنی واپسی کی پرواز یقینی بنانی ہوگی۔
سیّاحتی کمپنی ریحان الجزیرہ ٹورزم کے شِہاب پرواد کے مطابق: "کئی افراد یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے آن لائن بکنگ کی ہے، وہ واپسی بعد میں طے کر سکتے ہیں، مگر اب یہ ممکن نہیں۔ حتیٰ کہ اگر آپ کے پاس عمرہ ویزا اور ہوٹل کی بکنگ موجود ہے، تب بھی چیک اِن کے وقت واپسی کی ٹکٹ دکھانا لازمی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ واپسی کی بکنگ صرف ایئرلائنز کے لیے نہیں بلکہ سعودی حکام کے لیے بھی اہم ہے تاکہ زائرین کے ہجوم، ٹرانسپورٹ اور ہوٹل شیڈول کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔
ٹریول آپریٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ تمام عمرہ زائرین اپنی روانگی اور واپسی کی مکمل پروازیں پہلے سے بُک کریں تاکہ آخری وقت میں کسی قسم کی پریشانی یا تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







