متحدہ عرب امارات

یو اے ای: ابو ظہبی میں المناک کار حادثے میں جاں بحق چار بھارتی بھائی دبئی میں پہلو بہ پہلو سپرد خاک

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی نژاد چار کم عمر بھائی، جو اتوار کی صبح ابو ظہبی میں پیش آنے والے ہولناک کار حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے، منگل کی دوپہر دبئی کے ایک قبرستان میں پہلو بہ پہلو سپرد خاک کر دیے گئے۔

دبئی کے علاقے محیصنہ میں واقع القصيص قبرستان میں ہونے والی تدفین کے موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں سینکڑوں افراد، جن میں رشتہ دار، دوست اور کمیونٹی کے افراد شامل تھے، کی موجودگی میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے والدین عبد اللطیف اور رخسانہ کے چاروں بیٹوں کی تدفین کی گئی۔ وہیل چیئر پر موجود غمزدہ والد کی حالت دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔

ایک سماجی کارکن نے خلیج نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ایک ہی خاندان کے بچوں کی اس طرح کی اجتماعی تدفین پہلے کبھی نہیں دیکھی، اور یہ منظر وہاں موجود ہر شخص کے لیے انتہائی دلخراش تھا۔

خلیج نیوز کے مطابق، اتوار کی علی الصبح اشاز 14 سال، عمار 12 سال، عیاش 5 سال اور خاندان کی گھریلو ملازمہ بشریٰ فیاض یحییٰ 49 سال اس وقت جاں بحق ہو گئے تھے جب لیوا فیسٹیول سے دبئی واپس آتے ہوئے ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔

خاندان کا چوتھا بیٹا، سات سالہ عزام، پیر کی شام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جبکہ والدین اور ان کی اکلوتی بیٹی 10 سالہ ازاء اب بھی ابو ظہبی کے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ بشریٰ فیاض کی میت پیر کی رات کیرالہ روانہ کی گئی جہاں منگل کو ان کی تدفین عمل میں آئی۔

غم ناک خبر دینے کا مرحلہ خاندان کے لیے نہایت کٹھن ثابت ہوا۔ قریبی رشتہ داروں نے کئی گھنٹے یہ سوچنے میں گزارے کہ والدین کو یہ دل توڑ دینے والی خبر کس طرح دی جائے۔ عبد اللطیف کو اتوار کی رات دیر گئے اس سانحے سے آگاہ کیا گیا، تاہم والدہ رخسانہ کو منگل کے روز اس وقت بتایا گیا جب ان کے ہاتھ کی سرجری مکمل ہو چکی تھی۔ ایک رشتہ دار کے مطابق، یہ خبر ماہر کونسلنگ ٹیم نے پیشہ ورانہ انداز میں دی تاکہ صدمہ کچھ حد تک کم کیا جا سکے۔

تدفین سے قبل والدین اور ازاء کو اسپتال میں بچوں کی میتیں آخری بار دیکھنے کی اجازت دی گئی۔ شدید تکلیف کے باوجود عبد اللطیف نے خود کو اسپتال سے ڈسچارج کرانے کی درخواست کی، جبکہ رخسانہ اور ازاء بدستور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

چاروں بھائیوں کی نماز جنازہ ابو ظہبی اور دبئی میں ادا کی گئی، جس کے بعد تقریباً ساڑھے چار بجے تدفین مکمل ہوئی۔ سماجی کارکنوں کے مطابق، اگرچہ خاندان کے رہائشی ویزے راس الخیمہ سے جاری ہوئے تھے، تاہم خصوصی اجازت کے تحت بچوں کی تدفین دبئی میں کی گئی کیونکہ خاندان اور ان کے زیادہ تر رشتہ دار یہیں مقیم ہیں۔

رخسانہ کی پیدائش اور پرورش بھی یو اے ای میں ہوئی تھی، اور ان کے کئی بہن بھائی اب بھی یہاں مقیم ہیں۔ سانحے کی خبر ملتے ہی ان کی والدہ کیرالہ سے اور ایک بھائی اسپین سے دبئی پہنچے، جبکہ دیگر قریبی عزیز اور دوست اس کڑے وقت میں خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

چند روز قبل تک یہ خاندان یو اے ای میں ایک خوشحال زندگی گزار رہا تھا۔ عبد اللطیف راس الخیمہ میں اپنا کاروبار چلاتے ہیں جبکہ رخسانہ دبئی میں پراپرٹی کنسلٹنٹ ہیں۔ سردیوں کی تعطیلات کے آخری ہفتے میں خاندان دوستوں کے ہمراہ لیوا فیسٹیول گیا تھا، تاہم بچوں کے اسکول کھلنے کی تیاری کے لیے واپسی کا فیصلہ وہ لمحہ ثابت ہوا جس نے خاندان کی تقدیر بدل دی۔

حادثہ اتوار کی صبح تقریباً چار بجے پیش آیا، جبکہ ابو ظہبی پولیس کی جانب سے تاحال باضابطہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس سانحے نے یو اے ای میں مقیم کیرالہ کمیونٹی اور دبئی کے عرب یونٹی اسکول، جہاں پانچوں بچے زیر تعلیم تھے، کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button