متحدہ عرب امارات

یو اے ای: سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب، خریدار چھوٹے اور سمجھدار طریقے اپنا رہے ہیں

خلیج اردو
دبئی: دبئی کے جیولرز کے مطابق یو اے ای میں خریدار سونے اور جیولری کی خریداری چھوٹے اور زیادہ سمجھدار طریقوں سے کر رہے ہیں کیونکہ قیمتی دھات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب ہیں۔

بافلے جیولرز کے منیجنگ ڈائریکٹر چراغ وورا نے کہا کہ سونا روایتی طور پر قدر محفوظ رکھنے کا ایک مستحکم ذریعہ رہا ہے، جو صارفین کو قلیل مدتی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود سرمایہ کاری کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں خریدار چھوٹے چھوٹے حصوں میں جمع کر رہے ہیں، گرام اور ایکسچینج ایبل پروڈکٹس پر توجہ دے رہے ہیں، اور سکے و بارز کے ساتھ ٹریڈ اِن کے ذریعے اوسط لاگت کو متوازن کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے دبئی میں سونے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی جب 24 قیراط فی گرام 445.25 درہم اور 22 قیراط فی گرام 412.25 درہم تک جا پہنچی۔ تاہم جمعرات کی صبح قیمتوں میں معمولی کمی آئی اور 24 قیراط 440.25 درہم جبکہ 22 قیراط 407.5 درہم فی گرام پر فروخت ہوا۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت پہلی بار 3,700 ڈالر فی اونس سے اوپر گئی لیکن جمعرات کو کم ہو کر 3,656 ڈالر فی اونس رہی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قلیل مدت میں منافع خوری کے باعث قیمتوں میں کمی آسکتی ہے لیکن بعد میں یہ دوبارہ بڑھ کر 4,000 ڈالر فی اونس کی نئی بلند ترین سطح چھو سکتی ہے۔

مینا جیولرز کے پارٹنر ونے جیتھوانی کے مطابق زیادہ تر خریدار طویل مدتی نظریہ اختیار کر رہے ہیں اور سونے کو مستقبل کے لیے محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی کے موقع پر گاہکوں کو خصوصی پروموشنز اور آفرز کے ذریعے بلند قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کنز جیولز کے چیئرمین انل دھناک نے کہا کہ فی الحال زیادہ تر صارفین یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ مارکیٹ کس طرف جائے گی، اسی لیے وہ محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے انتظار اور مشاہدے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ کلیان جیولرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رامیش کلینارامن نے بھی کہا کہ خریدار اب زیادہ تر طویل مدتی سوچ کے ساتھ سونا اور جیولری خرید رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button