
خلیج اردو آن لائن:
راس الخیمہ کی سول عدالت نے ایک پرائیویٹ ہسپتال اور ایک ماہر امراض بچگان کو 2 لاکھ درہم بطور ہرجانے کے ایک ایسے جوڑے کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے جن کا حمل ایک میڈیکل غلطی کی وجہ سے ذائع ہو گیا تھا۔
اس سے پہلے ذیلی سول عدالت نے پرائیویٹ ہسپتال اور بچوں کے ڈاکٹر کو حکم دیا تھا کہ وہ اس جوڑے کو 5 لاکھ درہم ادا کریں گے، جس میں 3 لاکھ 50 ہزار متاثرہ بیوی کو 1 لاکھ 50 ہزار اس کے شوہر کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
تاہم، متاثرہ جوڑاعدالت کے اس فیصلے سے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے اعلی عدالت کے پاس گیا تاکہ ڈاکٹر اور ہسپتال کی غلطی کی وجہ سے انہیں ہونے والے نقصان اور صدمے کا ہرجانہ حاصل کر سکیں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر اور ہسپتال نے بھی فیصلے کو چیلنج کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ حکام کی جانب سے انکی تفتیش ہی نہیں کی گئی تاکہ ہونے والے نقصان میں انکی ذمہ داری کا تعین ہو سکتا۔ لہذا عدالت کی جانب سے عائد کیا گیا جرمانہ بہت زیادہ ہے۔
تاہم، سول کورٹ آف اپیل نے ڈاکٹر اور ہسپتال کی موقف کو کلی طور پر تسلیم نہیں کیا اور عدالت کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اور ہسپتال متعلقہ میڈیکل کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس نے انہیں حمل کے ذائع ہونے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ لہذا "کمیٹی کی رپورٹ درست ہے بیشک اس پر تمام ممبران کے دستخط نہیں ہوئے تھے”۔
لیکن کورٹ آف اپیل نے ذیلی عدالت کی جانب سے عائد کیےگئے جرمانے کی رقم کو زیادہ قرار دیتے ہوئے اس کم کر کے 2 لاکھ درہم کر دیا اور ڈاکٹر حکم دیا کہ وہ 1 لاکھ 50 ہزار درہم متاثرہ بیوی کو ادا کرے گاجبکہ ، ہسپتال کو 50 ہزار درہم شوہر کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
Source: Khaleej Times







