
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مٹی میں موجود ننھے جاندار، جنہیں مائیکروبز کہا جاتا ہے، صحرائی علاقوں میں زراعت کے طریقہ کار کو بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ گندم اور کھجور کے درختوں پر مقامی فیلڈ ٹرائلز جاری ہیں، جن کے ذریعے یہ جانچا جا رہا ہے کہ یہ مائیکروبز پودوں کی برداشت اور پیداوار میں کس حد تک بہتری لا سکتے ہیں۔
سائنس جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق مائیکروبیل زندگی اور پودوں کی جڑوں کے درمیان تعلق پودوں کو غذائی اجزاء، پانی کی فراہمی اور بیماریوں سے تحفظ حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل کو "پلانٹ-سوائل فیڈبیک” کہا جاتا ہے جو نمکیات، گرمی اور ناقص مٹی جیسے مسائل سے متاثرہ علاقوں میں پائیدار زراعت کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
امریکن یونیورسٹی آف شارجہ کے پروفیسر ڈاکٹر جان کلیرونوموس نے کہا کہ "پودے اور مائیکروبز ہمیشہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، اصل چیلنج ان تعلقات کو سمجھ بوجھ کے ساتھ منظم کرنا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں ہر حیاتیاتی فائدہ اہمیت رکھتا ہے۔”
یہ تحقیق ڈاکٹر کلیرونوموس، چائنا ایگریکلچرل یونیورسٹی اور نیدرلینڈز انسٹی ٹیوٹ آف ایکولوجی کے سائنسدانوں کے اشتراک سے کی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ان کی ٹیم مائیکروبیل انوکیولینٹس (مفید بیکٹیریا یا فنگس) اور بایوسٹیمولینٹس کے استعمال پر تجربات کر رہی ہے جو پودوں کو شدید گرمی، نمکیات اور دیگر سخت موسمی حالات میں برداشت کے قابل بناتے ہیں۔
یہ تحقیق شارجہ سسٹین ایبل ایگریکلچر ریسرچ گروپ کے تحت کی جا رہی ہے جو امریکن یونیورسٹی آف شارجہ اور یونیورسٹی آف شارجہ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس گروپ کا مقصد صحرائی مٹی کی حیاتیاتی فعالیت کو بحال کرنا ہے تاکہ زراعت کو پائیدار بنایا جا سکے۔
تحقیق میں روایتی زرعی طریقے جیسے فصلوں کی تبدیلی، باہمی فصل کاری (Intercropping) اور کم ہل چلانے جیسے طریقے بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ان طریقوں کو مٹی کی حیاتیات کی سمجھ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ کیمیکل کے استعمال میں کمی اور موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
چائنا ایگریکلچرل یونیورسٹی کے پروفیسر جنلنگ ژانگ نے کہا کہ "مائیکروبیل زندگی زراعت کا سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا ہتھیار ہے۔ جب ہم مٹی میں موجود زندگی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں تو ہم زیادہ پائیدار اور قدرتی ایکو سسٹم سے ہم آہنگ زرعی نظام تیار کر سکتے ہیں۔”
محققین اس بات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ پودوں کے مخصوص جینز کس طرح جڑوں اور مائیکروبز کے درمیان رابطے کو متاثر کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسی فصلیں تیار کی جا سکیں جو مفید مائیکروبز کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ ہو سکیں۔
تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مٹی مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے۔ اگر ہم مٹی کو ایک زندہ نظام کے طور پر سمجھیں تو زراعت کو خوراکی تحفظ، موسمی تبدیلیوں سے ہم آہنگی اور طویل مدتی زمین کی پائیداری کی جانب بڑھایا جا سکتا ہے۔






