
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ملکی تاریخ میں پہلی بار میڈیا قوانین میں بڑی سطح پر تبدیلی کرتے ہوئے نیا میڈیا ریگولیشن سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت میڈیا اداروں، پلیٹ فارمز اور مواد کی نگرانی کو مزید منظم اور سخت بنایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق، نئے قوانین کی خلاف ورزی پر 20 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ خلاف ورزی دہرانے کی صورت میں جرمانہ دگنا کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض صورتوں میں لائسنس منسوخی اور دیگر سخت سزائیں بھی دی جا سکیں گی۔
نئے سسٹم کے تحت میڈیا مواد کے لیے 20 نئے معیار مقرر کیے گئے ہیں، جن میں مقامی ثقافت، مذہبی اقدار، سچائی، شفافیت اور سماجی ہم آہنگی جیسے عناصر کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ ان معیارات کی خلاف ورزی کو سنگین معاملہ تصور کیا جائے گا۔
مزید برآں، ایک نیا پلیٹ فارم عوامی نگرانی کے لیے جلد متعارف کروایا جائے گا جس کے ذریعے شہری اور ناظرین میڈیا مواد پر اپنی آرا اور شکایات درج کر سکیں گے۔
مقامی مواد کی تیاری اور فروغ کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی پیکیجز بھی شامل کیے گئے ہیں، جبکہ نئے میڈیا ادارے قائم کرنے کے لیے مخصوص شرائط وضع کر دی گئی ہیں، تاکہ معیار اور پیشہ ورانہ ذمے داری کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد متحدہ عرب امارات میں میڈیا سیکٹر کو عالمی معیار کے مطابق بنانا، قومی اقدار کی حفاظت اور عوام کو صحت مند اور بااعتماد میڈیا ماحول فراہم کرنا ہے۔







