
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں دس ہزار درہم ماہانہ تک تنخواہ والی ملازمتوں کی بھرتیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ نئی نوکری گلف ہائرنگ انڈیکس رپورٹ کے مطابق اپریل اور مئی 2026 کے دوران اس تنخواہ کے درجے میں بھرتیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد کمی آئی۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تنخواہ والی ملازمتیں اس کمی سے نسبتاً کم متاثر ہوئیں۔ گیارہ ہزار سے بیس ہزار درہم ماہانہ تنخواہ والی ملازمتوں میں 22 فیصد، اکیس ہزار سے چالیس ہزار درہم والی ملازمتوں میں 19 فیصد اور اکتالیس ہزار سے اسی ہزار درہم والی ملازمتوں میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح اسی ہزار سے ایک لاکھ پچاس ہزار درہم ماہانہ تنخواہ والی اعلیٰ سطح کی ملازمتوں میں صرف 5 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ ایک لاکھ پچاس ہزار درہم سے زیادہ تنخواہ والی آسامیوں میں کمی کی شرح 23 فیصد رہی، تاہم رپورٹ کے مطابق اس زمرے میں ملازمتوں کی تعداد کم ہونے کے باعث معمولی تبدیلی بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی علاقائی کشیدگی کے بعد متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کی معیشت، سفر، تجارت اور سیاحت سمیت کئی شعبے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں نجی کمپنیوں نے نئی بھرتیاں سست کر دیں یا ملازمتوں میں کمی کی۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل اور مئی 2026 میں متحدہ عرب امارات میں مجموعی طور پر بھرتیوں کی شرح گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 23 فیصد کم رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ دیگر صنعتوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم رہا۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل ملازمتوں میں صرف 6 فیصد اور ٹیکنالوجی سے متعلق مخصوص آسامیوں میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا سے متعلق ملازمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب سیلز اور مارکیٹنگ کی ملازمتوں میں 42 فیصد، ہیومن ریسورسز میں 34 فیصد اور فنانس کے شعبے میں بھی 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ تیل، گیس اور توانائی کا شعبہ 30 فیصد کمی کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تقریباً 68 فیصد کمپنیاں بھرتی کے وقت کسی مخصوص قومیت کی شرط نہیں رکھتیں۔ تاہم جن اداروں کی ترجیح ہوتی ہے، ان میں عرب امیدوار سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں، جن کا تناسب 21 فیصد ہے، جبکہ یورپی اور جنوبی ایشیائی امیدواروں کا حصہ تقریباً 6، 6 فیصد رہا۔







