
خلیج اردو
05 ستمبر 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات میں قانون سے آگاہی غنیمت ہے۔ قانون جانتے ہوئے بہت کم امکان ہوتا ہے کہ آپ کسی قانونی حوالے سے پریشانی کا شکار ہوں یا آپ سے انجانے میں کوئی غلطی سرزد ہو جائے۔
ایسے میں ملازمین کی رہنمائی کے حوالے سے ملازمت کے قوانین سے متعلق آگاہی پر مبنی مہمات سوشل میڈیا کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ ایک قاری کا سوال اور اس کا جواب ہمارے قارئین کیلئے مفید ہوگا۔ ذیل میں سوال اور اس کا جواب موجود ہے۔
سوال : میں متحدہ عرب امارات میں موجود ایک کمپنی میں محدود دورانیے کیلئے کیے گئے کنٹریکٹ پر ملازم ہوں۔ میں مجبوری میں اپنے پروبیشن پیریڈ کی تکمیل سے قبل یہ نوکری چھوڑنا چاہتوں ہوں۔ مجھے بتایا گیا پے کہ مجھ پر ملازمت کے حوالے سے پابندی لگ جائے گی اگر میں نے نوکری چھوڑی۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ سچ ہے؟ کیا مجھے کمپنی کو کوئی مالی ہرجانہ بھی ادا کرنا ہوگا؟ اگر مجھ پر بین لگ گیا تو اسے ختم کیسے کروں گا؟
جواب : آپ کے سوالات کے مطابق ہم فرض کرتے ہیں کہ آپ اپنے آجر کے ساتھ چھ ماہ کے پروبیشن پیریڈ پر ملازم ہیں۔ آپ متحدہعرب امارات میں موجود کمپنی میں ملازم ہیں ۔ 1980 کے وفاقی قانون نمبر اور وزارتی فرمان نمبر 1،094 2016 کی دفعات یہاں لاگو ہیں۔
ایک ملازم جو معاہدے کی ایک محدود مدت کے تحت ملازم ہے وہ ایک سال کی ملازمت کی ممکنہ پابندی سے بچنے کیلئے اس معاہدے کے ایکسپائر ہونے تک ختم نہیں کر سکتا۔
یہ ایمپلائمنٹ قانون کے آرٹیکل 128 کے مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایک غیر قومی ملازم کسی محدود مدت کیلئے معاہدے کی میعاد ختم ہونے سے پہلے بغیر کسی معقول وجہ کے اپنا کام چھوڑ دیتا ہے وہ دوسری نوکری آجر کی رضامندی سے بھی نہیں کر سکتا ۔
یہ کسی دوسرے آجر کیلئے قانون نہیں ہوگا جو اس حقیقت سے آگاہ ہو کہ ایسے ملازم کو بھرتی کرے یا اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے اسے نوکری ہر رکھےگا ”
تاہم ایک آجر اور ملازم باہمی رضامندی سے چھ ماہ کی تکمیل کے بعد ملازمت کے معاہدے کی ایک محدود مدت کو ختم کرنے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔ یہ 2016 کے وزارتی فرمان نمبر 1094 کے آرٹیکل ون کے مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ملازم کے ملازمت کے تعلق کو ختم کرنے پر ملازم کو ایک نیا ورک پرمٹ دیا جا سکتا ہے۔
اگر دونوں فریقین یعنی (ملازم اور آجر) باہمی طور پر معاہدے کو اس کی مدت کے دوران ختم کرنے پر متفق ہیں بشرطیکہ ملازم نے چھ ماہ سے کم عرصہ اس آجر کے ساتھ مکمل کیا ہو جنہوں نے اسے ویزہ عطا کیا ہو اور اسے باہر کی ریاست سے لایا ہو، ان پر ان رولز کا اطلاق نہیں ہوگا۔
اگر آپ مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جیسے کہ آپ نے بتایا ہے کہ آپ کا ملازمت کا معاہدہ محدود ہے – اس صورت میں آپ کو اپنے آجر کو اپنی تنخواہ کے آدھے مہینے تک معاوضہ دینا پڑ سکتا ہے اور یہ روزگار کے قانون کے آرٹیکل 116 میں بیان کیا گیا ہے۔
اگر آپ اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ چھ ماہ مکمل کرنے کے بعد اس کا انتخاب کریں۔ مزید یہ کہ آپ نئی ملازمت اختیار کرنے کیلئے مہارت کی سطح اور تنخواہ کے معیار سے متعلق وزارت انسانی وسائل اور امارات سے قانونی مشورہ لے سکتے ہیں۔
Source : Khaleej Times







