
خلیج اردو
راس الخیمہ، 2 جولائی 2025
اماراتی نوجوان الحارث حمید المنصوری نے تھلیسیمیا جیسے موروثی خون کی بیماری کو شکست دے کر ہائی اسکول سے کامیابی کے ساتھ گریجویشن حاصل کر لی۔ بچپن سے مسلسل خون کی منتقلی، علاج اور بے یقینی کے سائے میں جینے والا یہ نوجوان آج ہزاروں مریضوں کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔
الحارث کا تعلق راس الخیمہ سے ہے اور وہ گریجویٹنگ کلاس آف 2025 کا حصہ ہے۔ اس نے کہا:
"صحت کے مسائل کے باوجود میں یہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، یہ سب اللہ، میرے خاندان اور ملک کی بدولت ممکن ہوا۔”
علاج سے نئی زندگی تک
الحارث کو تھلیسیمیا کی تشخیص چند ماہ کی عمر میں ہوئی تھی، جس کے بعد ہر دو سے تین ہفتے بعد خون کی منتقلی اور مسلسل ادویات کا معمول بن گیا۔ تاہم 17 سال بعد، اس کی زندگی میں اہم موڑ اس وقت آیا جب اس کی بہن نے اسے بون میرو عطیہ کیا، جسے وہ اپنی "نئی زندگی” قرار دیتا ہے۔
بون میرو ٹرانسپلانٹ ایک پیچیدہ اور حساس عمل ہے، مگر الحارث کے لیے یہ اس کی بیماری سے نجات اور ایک عام زندگی کی طرف واپسی کا راستہ بن گیا۔
تعلیم اور جدوجہد ساتھ ساتھ
الحارث نے بتایا کہ اسپتال میں زیر علاج رہتے ہوئے وہ لیپ ٹاپ اور موبائل کے ذریعے تعلیم حاصل کرتا رہا، جبکہ اس کی والدہ ہر لمحہ ساتھ رہیں، اس کے ساتھ پڑھتی اور اس کی ہمت بندھاتی رہیں۔
اسکول انتظامیہ، بالخصوص خدیجہ الشمیلی، اساتذہ حنادی النعیمی، نعیمہ الشاہی اور جاسم الحمادی نے بھی اس کے تعلیمی سفر میں بھرپور ساتھ دیا۔ الحارث نے ان سب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اس کا حوصلہ بلند رکھا۔
مستقبل کا خواب: دوسروں کا علاج
تھلیسیمیا سے گزرنے والے اس نوجوان نے اب طب کے میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الحارث نے کہا:
"میرا خواب ہے کہ میں ریڈیالوجی اسپیشلسٹ بنوں۔ میں مریض کے درد کو جانتا ہوں، اس لیے میں بھی دوسروں کا درد کم کرنا چاہتا ہوں، جیسے دوسروں نے میرا بوجھ کم کیا۔”
اس کا ماننا ہے کہ تھلیسیمیا کے مریض ظاہری طور پر صحت مند دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر انہیں سمجھا نہیں جاتا، نہ روزگار میں مناسب مواقع دیے جاتے ہیں۔
"ہمیں بھی باوقار زندگی جینے کا حق ہے۔ میری اپیل ہے کہ ادارے تھلیسیمیا کے مریضوں کو بھی مواقع دیں۔ میں ان سب کی آواز بننا چاہتا ہوں۔”
تھلیسیمیا سنٹر اور کمیونٹی کی حمایت
الحارث نے دبئی تھلیسیمیا سنٹر، ڈاکٹر نجم، اور تمام طبی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے برسوں اس کا علاج اور حوصلہ افزائی کی۔ نیشنل کونسل کے رکن سلطان بن یعقوب الزعابی کی معاونت کا بھی خصوصی ذکر کیا، جنہوں نے ہر قدم پر اس کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔
الحارث کی زندگی کا یہ سفر صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ امید، عزم اور معاشرتی تعاون کا پیغام ہے۔ وہ اب اس خواہش کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ اس کی داستان دوسرے مریضوں کے لیے مشعل راہ بنے۔





