
خلیج اردو
02 اکتوبر 2021
دبئی : انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور متحدہ عرب امارات اس کا عملی مشاہدہ کرنے کیلیے بہترین ملک ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف حوالے سے تنازعات ہیں لیکن امارات میں دونوں ممالک کے شہری امن اور سلامتی سے رہ رہے ہیں۔
اس کی تازہ ترین مثال ایک پاکستانی غیر ملکی عثمان اللہ میردل خان ہے جو شیو پوجن کا خیال رکھ رہا ہے۔ پوجن خودکشی کی کوشش میں معزور ہو گیا تھا جو چلنے اور پھرنے سے قاصر ہے۔
میردل خان کا کہنا ہے کہ وہ دو مہینوں سے پوجن کا خیال دکھ رہا ہے۔ “ میں ہمیشہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہوں جن کا کوئی نہیں ہوتا” ، میردل نے بتایاکہ اس کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ شیو پوجن اسپتال میں ہے تو میں نے انہیں باقاعدگی سے ویزٹ کرتا رہا۔
میردل کے مطابق جب پوجن کا آپریشن تھا تو میں نے ان کا خیال رکھنے کیلیے زیادہ وقت دینا شروع کیا اور اس کے اسپتال کے سارے بلز بھی کلیئر کئے۔ میں اس کے پاس جاکر اسے نہلاتا ہوں اور اس کا کمرہ صاف کرتا ہوں۔
پوجن مارچ 2021 میں متحدہ عرب امارات آیا اور اس نیت سے کہ اسے ویزہ ملے گا اور وہ خاندان کی کچھ بہتری میں کامیاب ہو جائے گا۔ انہوں نے ممبئی میں ایک ایجنٹ کو ویزہ کا بندوبست کرنے کیلیے 90000 کی ادائیگی کی۔
متحدہ عرب امارات پہنچنے پر اسے معلوم ہوا کہ ایجنٹ نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ قرضوں میں ڈوب کر اور بنا کسی ملازمت کے ، پوجن نے انتہائی قدم اٹھایا اور 18 اپریل کو ایک تیسری منزل سے چھلانگ لگائی۔ اسے شدید چوٹیں آئیں۔
راشد اسپتال میں علاج کے دوران پوجن کی صحت میں بہتری تو آنے لگی لیکن اس کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ کوئی تھا نہیں جو اس کی مالی مدد کرتا۔ بھارتی سوشل ورکر اور قانون دان سلام پاپنسری ان کے پاس آیا اور اس کیلیے رہائش ، خوراک اور دوائیوں کا بندوبست کیا۔
سات سالوں سے متحدہ عرب امارات کا رہائشی میردل خان ایک سیاحتی کمپنی چلاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے دیگر اقوام کے بہت سے شہریوں کی مدد کی ہے جن میں نیپالی ، سوڈانی ، شامی ، مصری ، بنگلادیشی اور دیگر اقوام کے لوگ شامل ہیں۔
مسٹر خان کا کہنا ہے کہ والد صاحب نے انسان بن کر انسانیت کی خدمت کا درس دیا ہے اسی وجہ سے کبھی کسی کی مدد کرتے ہوئے اس کی قومیت کا خیال دل میں نہیں آیا۔
دوسری طرف خودکشی کی کوشش پر آلرفاح پولیس اسٹیشن میں خودکشی کی کوشش پر پوجن کے خلاف کیس دائر کیا گیا تھا جو پاپنیسیری کی مدد سے وائی اے بی لگل گروپ نے ختم کرایا۔
جیسے ہی پوجن کی صحت بہتر ہو جائے گی ، اسے لکھنو میں اپنے آبائی علاقے واپس روانہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے سفری اخراجات پاپنیسیری کو برداشت کرنے ہوں گے۔
Source : Khaleej Times







