متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : نجی ٹیوشن کلاسز غیر قانونی ہیں، ٹیوٹر کو 50 ہزار درہم تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا

خلیج اردو
02 مئی 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں تعلیمی اداروں کو کرونا وباء کی وجہ سے بند کیا گیا ہے۔ ایسے میں نجی ٹیوشن سنٹرز کیلئے بھی اجازت نہیں کہ وہ ٹیوشن سنٹرز میں بچوں کو تعلیم دیں یا گھروں میں ٹیوشن کی سہولت دیں۔

ایسے میں خالج ٹائمز سے ایک صارف نے ایک سوال پوچھا ہے جس کا جواب کافی صحت بخش ہوسکتا ہے خاص کر ان لوگوں کیلئے جو متحدہ عرب امارات میں اپنے بچوں کے تعلیم کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

سوال : میں دبئی کا رہائشی ہوں اور میں اپنے دس سالہ بچے کے تعلیمی بہتری کیلئے انہیں ٹیوشن پڑھانا چاہتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے پڑوسی کے گھر بھجواؤں کیونکہ وہ ایک بہترین ٹیچر ہے مگر مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔ میں ٹیوشن سنٹر میں بچے کو ٹیوشن نہیں دلوا سکتا ، کیا آپ اس حوالے سے وضاحت کر سکتے ہیں؟

جواب : آپ کے سوال کو دیکھتے ہوئے میں وضاحت کر دینا چاہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں نجی ٹیوشن سنٹر غیر قانونی ہے۔ تاہم امارات میں کچھ ایسے ٹیوشن سنٹرز ہیں جن کی منظوری متحدہ عرب امارات کی وزارت تعلیم نے دی ہوئی ہے۔

ایسےمیں جب آپ اپنے بیٹے کو اپنے پڑوسی کے گھر بھیجیں تو ، اس کو غیر قانونی ملازمت سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات میں روزگار کے 1973 کے وفاقی قانون نمبر (6) اور اس کے بعد 1996 میں قانون نمبر (13) اور 2007 کے قانون نمبر 7 (امیگریشن قانون) اور 1980 کے وفاقی قانون نمبر (8) کے ذریعہ ترمیم کے مطابق ہے۔

ملازمت قانون کے آرٹیکل 13 میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کیلئے کسی بھی غیر ملکی کو وزارت انسانی وسائل اور امارات کی پیشگی منظوری کے بغیر اور طریقہ کار کے مطابق پہلے ورک پرمٹ حاصل کیے بغیر بھرتی نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ مندرجہ ذیل شرائط پوری نہ ہوں اس طرح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مذکوروہ ملازم پیشہ ورانہ قابلیت یا تعلیمی قابلیت کا حامل ہو جس کی ملک کو ضرورت ہے ۔ ملازمین ملک میں قانونی طور پر داخل ہوچکے ہیں اور ریاست میں رہائش کے ضوابط میں طے شدہ شرائط کو پورا کرتا ہے۔

قانون کی مذکورہ بالا دفعات کی بنا پر ، جو بھی شخص کسی فرد کو وزارت انسانی وسائل اور ایمریٹائزیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر یا متحدہ عرب امارات میں کسی مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر ملازمت کرے تو یہ جرم ہے۔

اگر آپ کا پڑوسی اپنی رہائش گاہ پر ٹیوشن دے رہی ہو تو، مالک مکان کرایہ کے احاطے کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بنیاد پر اس کی بے دخلی کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

آپ کا پڑوسی اس کی رہائش گاہ پر ٹیوشن دے کر متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے وبائی بیماری کے حوالے سے بیان کردہ پروٹوکول کی بھی خلاف ورزی کرسکتا ہے۔ سال 2020 میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے متحدہ عرب امارات کی وزارت تعلیم نے رہائش گاہوں ، تعلیمی اداروں یا ملک میں کسی بھی دوسرے مقامات پر طلباء کو پیش کی جانے والی ہر قسم کی نجی ذاتی تربیت پر پابندی عائد کردی ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button