متحدہ عرب امارات

اماراتی شہری کا عام سی سردرد زندگی کا خوفناک تجربہ بن گیا، جان بچانے کے لیے کھوپڑی کا حصہ نکالنا پڑا

خلیج اردو
راس الخیمہ: 32 سالہ اننتا ساہو کے لیے ایک عام سردرد زندگی کے بدترین خوف میں بدل گیا۔ ایک ہفتے کے دوران درد ناقابل برداشت ہو گیا، بخار تیز ہو گیا، گردن اکڑ گئی اور جسمانی توازن برقرار رکھنا بھی مشکل ہو گیا۔ اننتا نے کہا کہ انہیں اندازہ تھا کہ کچھ غلط ہے، مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ معاملہ جان لیوا ہے۔

"میرا سردرد شدید تھا جو کسی صورت ختم نہیں ہو رہا تھا، گردن میں شدید تکلیف تھی، بخار بھی تھا، میں بیٹھ نہیں سکتا تھا، نہ ہی ٹھیک سے چل سکتا تھا۔ مجھے لگا کہ میں شاید زندہ نہ بچ سکوں۔”

حالت بگڑنے پر انہیں فوری طور پر راس الخیمہ کے اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بخار، سردرد اور گردن کی اکڑاہٹ کو دماغی انفیکشن کے ممکنہ خطرے کی علامات کے طور پر پہچانا، جو اکثر فلو یا پٹھوں کے درد کے ساتھ الجھا دی جاتی ہیں۔

ایم آر آئی اسکین میں دماغ کے توازن اور کوآرڈینیشن کے ذمہ دار حصے (سیریبیلم) میں سوجن کا انکشاف ہوا۔ فالو اپ اسکین میں تصدیق ہوئی کہ اننتا کے دماغ میں ابسس (پیپ جمع ہونا) بن چکی ہے جو ایک نایاب مگر خطرناک انفیکشن ہے۔ اگر فوری علاج نہ ہو تو یہ فالج، میننجائٹس یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔

را کے اسپتال کے نیورو سرجن ڈاکٹر ٹنکو جوز نے بتایا کہ اننتا کی حالت انتہائی تشویشناک ہو چکی تھی کیونکہ انفیکشن تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی علامات اکثر معمولی بیماریوں جیسی لگتی ہیں، لیکن بروقت ایکشن نے مریض کی جان بچا لی۔

نیورو سرجری ٹیم نے ہنگامی بنیادوں پر سب آکسی پٹیل کرینییکٹمی کی، جس میں دماغی دباؤ کم کرنے اور ابسس نکالنے کے لیے کھوپڑی کا ایک حصہ عارضی طور پر نکالا جاتا ہے۔ سرجری کامیاب رہی اور اننتا کی حالت چند گھنٹوں میں بہتر ہونا شروع ہو گئی۔

ڈاکٹر ٹنکو نے کہا کہ دماغی ابسس کان، ناک، سائنس یا دانتوں کے انفیکشن کے باعث خون کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو بخار کے ساتھ مستقل سردرد، قے یا گردن میں درد ہو تو اسے کبھی بھی نظر انداز نہ کریں۔ فوری اسکین اور طبی معائنہ جان بچا سکتا ہے۔

را کے اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رضا صدیقی نے کہا کہ یہ واقعہ وقت پر ایکشن لینے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ "لوگ اکثر علاج میں تاخیر کرتے ہیں یا گھریلو علاج پر اکتفا کرتے ہیں، مگر ایسے کیسز میں تھوڑی سی تاخیر بھی جان لیوا ہو سکتی ہے۔”

اب اننتا ساہو مکمل صحتیاب ہو چکے ہیں اور زندگی کی دوسری مہلت پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے دوسروں کو پیغام دیا: "درد کو نظر انداز نہ کریں۔ اپنے جسم کی بات سنیں اور جب شک ہو تو فوراً ڈاکٹر کے پاس جائیں، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button