
خلیج اردو
غزہ: متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ کے مکینوں کے لیے زندگی کی ڈور مضبوطی سے تھامے رکھنے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں شدید غذائی بحران کے خدشات کے پیش نظر امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ ہفتے کے روز “آپریشن برڈز آف گڈنیس” کے تحت 60 واں فضائی امدادی مشن مکمل کیا گیا جس میں فلسطینیوں کے لیے خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچایا گیا۔
یہ فضائی مشن اردن کے اشتراک اور فرانس، جرمنی، اٹلی کی شرکت سے مکمل ہوا۔ ایک روز قبل بھی اسی نوعیت کا مشترکہ مشن مکمل کیا گیا جس میں اسپین بھی شامل تھا۔ اب تک مجموعی طور پر 3,807 ٹن امدادی سامان فضائی ذریعے سے غزہ کے متاثرہ علاقوں میں گرایا جا چکا ہے۔
حالیہ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ کس طرح فلسطینی خواتین اور بچے امدادی سامان جیسے آٹا، ڈبہ بند خوراک اور کھجوریں وصول کرتے دکھائی دیے۔ ایک فلسطینی بچے نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “شکریہ یو اے ای، ہمیں آٹے کا تھیلا ملا ہے، اللہ برکت دے۔” ایک اور شخص نے کہا، “وہ چیزیں ملیں جو رمضان کے پہلے دن سے دیکھنے کو نہیں ملی تھیں، جیسے کھجور، گھی اور گوشت۔”
اقوام متحدہ کے ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کے مطابق غزہ میں قحط کا بدترین منظرنامہ سامنے آ سکتا ہے، اور فوری عالمی اقدام ناگزیر ہو چکا ہے۔ امدادی سامان کے فضائی مشنز کا مقصد اسی بحران کو روکنا ہے۔
فضائی امداد کے ساتھ ساتھ ہفتے کو زمینی راستے سے 22 میڈیکل ایڈ ٹرکس بھی غزہ روانہ کی گئیں جن میں ادویات اور طبی سامان شامل تھا۔ یہ سامان عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے فراہم کیا گیا ہے۔







