
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ تجارت کے حکام نے کہا ہے کہ عالمی تجارت کو صرف ایک بحری راستے، ایک بندرگاہ یا ایک گزرگاہ کے ذریعے چلانے کا دور ختم ہو چکا ہے اور مستقبل میں متبادل تجارتی راستوں کا قیام ناگزیر ہے۔
وزارتِ خارجہ تجارت کے مستقبلِ تجارت شعبے کے ڈائریکٹر عامر بن بریک نے دبئی ملٹی کموڈیٹیز سینٹر کی مستقبلِ تجارت رپورٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی نے اماراتی منصوبوں کو تبدیل نہیں کیا بلکہ ان پر عملدرآمد کی رفتار تیز کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی اقتصادی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد عالمی روابط کو برقرار رکھنا ہے، جس کے لیے سپلائی چینز میں تنوع، ممکنہ رکاوٹوں کا خاتمہ اور متعدد بندرگاہوں و لاجسٹک مراکز کا قیام ضروری ہے۔
عامر بن بریک کے مطابق 2026 کے وسط تک دنیا آبنائے ہرمز کی بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے بندش کے اثرات کا سامنا کرتی رہی۔ علاقائی تنازع کے دوران ایران نے اپنی سرزمین اور اتحادی گروہوں پر حملوں کے ردعمل میں اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی اور ایڈنوک کے سربراہ سلطان الجابر نے متعدد مواقع پر آبنائے ہرمز کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس صورتحال کے باوجود امارات نے توانائی کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں کا استعمال جاری رکھا۔
عامر بن بریک نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر مشرقی ساحل پر واقع فجیرہ کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو منتقل کیا اور اتحاد ریل کے 900 کلومیٹر طویل مال بردار نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے انہیں خلیفہ پورٹ، جبل علی پورٹ اور مختلف صنعتی علاقوں سے منسلک کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیج عمان کے راستے نئے زمینی تجارتی راستے فعال کرنے کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی تعاون کیا گیا، جس سے عالمی تجارتی روابط برقرار رکھنے میں مدد ملی۔







