
متحدہ عرب امارات نے سوڈان کے شہر الفاشر میں اقوام متحدہ کے اسیسمنٹ مشن کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ان شہریوں تک انسانی امداد کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے محاصرے اور شدید محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکا نے بھی تمام فریقین کی جانب سے امدادی ٹیموں کی رسائی ممکن بنانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے سوڈان میں جامع انسانی جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون، شیخہ ریما بنت ابراہیم الہاشمی نے کہا کہ اقوام متحدہ کا الفاشر تک اسیسمنٹ مشن ایک نہایت اہم قدم ہے جو محاصرے اور مشکلات سے دوچار شہریوں کے لیے انسانی امداد کی بحالی کی راہ ہموار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رسائی محض علامتی نہیں بلکہ مستقل اور یقینی ہونی چاہیے، تاکہ امداد تیزی، تحفظ اور بغیر کسی رکاوٹ کے الفاشر سمیت سوڈان بھر کے ضرورت مند افراد تک پہنچ سکے، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کے عین مطابق ہو۔
شیخہ ریما الہاشمی نے سوڈان بحران میں امریکا کے قائدانہ سفارتی کردار کو سراہا اور اقوام متحدہ، اوچا اور ان تمام انسانی تنظیموں کی کوششوں کی تعریف کی جو نہایت مشکل اور خطرناک حالات میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے جنگ میں مصروف دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ ملک بھر میں تمام دستیاب راستوں کے ذریعے فوری اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی کی اجازت دیں اور بغیر کسی شرط کے فوری قومی سطح کی انسانی جنگ بندی پر عمل کریں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات انسانی امداد کے فوری دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق امارات کے انسانی لاجسٹکس وسائل اور آپریشن سینٹرز اس قابل ہیں کہ اجازت ملتے ہی زندگی بچانے والی امداد کی ترسیل کو تیز کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی قافلوں کی فوری کلیئرنس اور محفوظ گزرگاہ سوڈانی خاندانوں کے لیے فوری ریلیف فراہم کرے گی اور مجموعی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد دے گی۔
شیخہ ریما الہاشمی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر، بشمول کواڈ ڈائیلاگ کے ذریعے، مستقل اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی اور فوری قومی جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اوچا اور اس کے شراکت داروں کی مالی معاونت میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ سوڈان میں انسانی بحران کی شدت کے مطابق امدادی سرگرمیوں کو وسعت دے سکیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور اوچا نے تصدیق کی ہے کہ شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر میں اسیسمنٹ مشن کامیابی کے ساتھ تعینات کر دیا گیا ہے، جہاں انسانی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس موقع پر امریکا کے صدارتی مشیر برائے افریقی امور، مسعد بولوس نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سوڈان بھر میں جامع انسانی جنگ بندی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، جبکہ امدادی قافلوں کی باقاعدہ آمد کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مسعد بولوس نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ اقوام متحدہ کا اسیسمنٹ مشن بالآخر الفاشر پہنچ گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی سفارت کاری جانیں بچانے میں مدد دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رسائی امریکا کی جانب سے کئی ماہ کی سفارتی کوششوں اور اوچا و دیگر انسانی شراکت داروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کو بنیاد بنا کر ملک بھر میں بلا رکاوٹ امداد کی فراہمی اور فوری انسانی جنگ بندی کو یقینی بنانا ضروری ہے، جسے دونوں فریقین کو بغیر کسی شرط کے قبول اور نافذ کرنا چاہیے۔
مسعد بولوس نے عالمی برادری سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سوڈان میں بگڑتی انسانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اوچا کی مالی معاونت میں اضافہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے مشن کے دورے کے دوران الفاشر میں بے گھر افراد کے مراکز، اقوام متحدہ کی تنصیبات، سروس سینٹرز، اسپتالوں اور مختلف اقوام متحدہ کے اداروں کے دفاتر کا بھی معائنہ کیا گیا۔







