متحدہ عرب امارات

العین عدالت کا فیصلہ: اسنیپ چیٹ پر ہتکِ عزت، دو ملازمین پر ایک لاکھ درہم جرمانہ

العین کی ایک عدالت نے موبائل فون ریٹیلر کے دو ملازمین کو حریف کاروبار کے خلاف اسنیپ چیٹ پر ہتکِ عزت کرنے پر ایک لاکھ درہم ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ مذکورہ ملازمین اسی اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ پر باضابطہ معذرت اور تردیدی بیان شائع کریں جس کے ذریعے توہین آمیز مواد نشر کیا گیا تھا۔

العین کورٹ آف سول، کمرشل اینڈ ایڈمنسٹریٹو کلیمز کا یہ فیصلہ ایک موبائل فون سیلز اور مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے دائر سول مقدمے کے بعد سامنے آیا، جس میں اسی شعبے سے تعلق رکھنے والے تین افراد اور ایک ریٹیل ادارے کے خلاف دو لاکھ درہم معاوضے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ مدعی نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی تھی کہ ملزمان کو عدالت کی طے کردہ صورت میں معذرت نامہ شائع کرنے اور قانونی اخراجات ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزمان نے ریٹیل ادارے کے نام سے رجسٹرڈ اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے ایسی پوسٹس کیں جن میں مدعی کمپنی کے تجارتی کردار پر سوال اٹھایا گیا اور اس پر صارفین کو دھوکا دینے اور نقلی مصنوعات فروخت کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ مدعی کمپنی کا مؤقف تھا کہ ان پوسٹس سے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور صارفین کا اعتماد مجروح ہوا، خاص طور پر اس لیے کہ سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ اس سے قبل فوجداری عدالت تینوں ابتدائی ملزمان کو ہتکِ عزت کا مجرم قرار دے چکی تھی، جن پر فی کس دس ہزار درہم جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جرم میں استعمال ہونے والا موبائل فون ضبط کرنے اور ویڈیو مواد حذف کرنے کے احکامات بھی دیے گئے تھے۔

سول مقدمے میں اپنے دفاع کے دوران ملزمان نے دعویٰ کیا کہ یہ دعویٰ تکنیکی بنیادوں پر ناقابلِ سماعت ہے کیونکہ فوجداری فیصلے میں کمپنی بطورِ راست متاثرہ فریق نامزد نہیں تھی اور ریٹیل ادارہ بھی فوجداری مقدمے کا فریق نہیں تھا۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ طلب کیا گیا معاوضہ ضرورت سے زیادہ ہے اور کسی حقیقی مالی نقصان کے ثبوت کے بغیر ہے۔

عدالت نے یہ دلائل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ توہین آمیز بیانات براہِ راست مدعی کمپنی کی تجارتی ساکھ کو نشانہ بناتے ہیں، اس لیے یہ نقصان قانونی شخصیت کو پہنچا، خواہ فوجداری شکایت کمپنی کے مالک کی جانب سے ہی کیوں نہ دائر کی گئی ہو۔ عدالت نے مزید کہا کہ ریٹیل ادارہ بھی ذمہ دار ہے کیونکہ یہ عمل ملازمت کے دوران اور ادارے کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے انجام دیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا کی وسیع رسائی اور دونوں فریقین کے ایک ہی تجارتی شعبے میں سرگرم ہونے کے باعث ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ایک متوقع اور براہِ راست نتیجہ تھا۔ عدالت نے ایک لاکھ درہم ہرجانہ ادا کرنے اور اسی اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ پر واضح معذرت اور الزامات کی تردید شائع کرنے کا حکم دیا، جسے نقصان کے ازالے کی ایک عملی صورت قرار دیا گیا۔ دیگر تمام دعوے مسترد کر دیے گئے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button