متحدہ عرب امارات

یورپ کی گرمی نے چھٹیاں بدل ڈالیں: یو اے ای کے رہائشی متبادل مقامات کی جانب مائل

خلیج اردو
دبئی – یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے متحدہ عرب امارات کے کئی رہائشیوں کو اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کے منصوبے بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جنوبی فرانس، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک، جو خلیجی باشندوں کے لیے گرمی سے فرار کا روایتی راستہ تھے، اب خود شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں — بعض مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری تک جا پہنچا ہے۔

پیر کے روز ترکی اور فرانس میں آگ بھڑکنے کے بعد ہزاروں افراد کو انخلا پر مجبور ہونا پڑا۔ فرانس، اسپین، اٹلی، پرتگال اور جرمنی میں ہیٹ الرٹس جاری کیے گئے، جب کہ نیدرلینڈز نے بھی غیر معمولی درجہ حرارت اور نمی کے باعث خبردار کیا ہے۔

روایتی منصوبے ترک، نئے امکانات تلاش

العین سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ اماراتی فاطمہ النعیمی نے بتایا کہ ان کا خاندان ہر سال یورپ میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارتا تھا، خاص طور پر فرانس اور اٹلی میں۔ مگر اس بار حالات مختلف ہیں۔

"جون اور جولائی کے درجہ حرارت 35 ڈگری سے اوپر جا رہے تھے،” انہوں نے کہا۔ "ہم نے سوچا کہ اگر بچوں کو سارا وقت اندر رکھنا پڑا تو پھر سیر کا فائدہ ہی کیا؟”

فاطمہ نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے دو چھوٹے بچوں کے لیے زیادہ معتدل موسم والا مقام چنا — کوئنز ٹاؤن، نیوزی لینڈ۔ وہاں موسم سرما ہے اور درجہ حرارت 14 سے 18 ڈگری کے درمیان ہے۔

"ہم نے کبھی نیوزی لینڈ کا سفر نہیں کیا، تو یہ ایک نیا تجربہ بھی ہوگا۔ ہم نے اندازہ لگایا کہ یہ سفر یورپ سے تھوڑا سستا بھی پڑے گا، اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملے گا،” انہوں نے مزید کہا۔

سفر کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی

سفر کے منصوبوں میں یہ تبدیلی صرف انفرادی نہیں، بلکہ سیاحتی اداروں نے بھی اسے محسوس کیا ہے۔

جویئل ٹریولز کی ہیڈ آف سیلز وینولی اوبے سیکارا نے کہا:
"ہم واضح تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اب چھٹیوں کی منصوبہ بندی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ ہمارے بیشتر کلائنٹس گرمی کے شدید ادوار سے بچنے کے لیے متبادل جگہوں کی تلاش کر رہے ہیں، اور پائیدار سیاحت میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ ماحول دوست ہوٹلوں اور سرگرمیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ "لوگ اب صرف تفریح نہیں چاہتے، بلکہ وہ ایسے تجربے چاہتے ہیں جو زمین کے لیے بھی اچھے ہوں،” انہوں نے کہا۔

ال ریس ٹریول کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر محمد جاسم ال ریس کا کہنا تھا کہ "ماضی میں گرمیوں کا مطلب یورپ ہوتا تھا۔ اب بھی لوگ وہاں جاتے ہیں، لیکن آخری لمحے تک موسم دیکھتے ہیں۔ ہر سال یورپ گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "کچھ لوگ اب کیپ ٹاؤن یا گولڈ کوسٹ جیسے سرد مقامات کا انتخاب کر رہے ہیں، جہاں سردیوں میں درجہ حرارت 13 سے 15 ڈگری ہوتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ اب بھی ایک بہتر آپشن ہے، خاص طور پر پہاڑوں کی وجہ سے۔ لیکن مجموعی طور پر لوگ اب زیادہ محتاط ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button