متحدہ عرب امارات

دبئی-شارجہ ٹریفک: 90 فیصد ڈرائیور روزانہ ٹریفک جام کا سامنا کرتے ہیں، نئی تحقیق کا انکشاف

خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات میں ٹریفک جام اب ایک عام اور روزمرہ کی پریشانی بن چکا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق دبئی اور شارجہ کے 90 فیصد سے زائد ڈرائیورز روزانہ ٹریفک جام کا سامنا کرتے ہیں، جو ملک بھر میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

یہ تحقیق الوثقبہ نیشنل انشورنس کے تعاون سے کی گئی اور روڈ سیفٹی یو اے ای کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر 86 فیصد متحدہ عرب امارات کے شہریوں نے تسلیم کیا کہ وہ ٹریفک کی بھیڑ سے متاثر ہوتے ہیں، جب کہ دبئی میں یہ شرح 91 فیصد اور شارجہ میں 90 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ٹریفک میں مسلسل اضافہ، آبادی کے ساتھ براہ راست تعلق
2020 میں متحدہ عرب امارات کی آبادی 94 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 1 کروڑ 13 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ دبئی کی آبادی تقریباً 40 لاکھ کے قریب ہے، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس آبادی میں اضافے کے ساتھ ہی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی قومی کونسل کے رکن ڈاکٹر عدنان الحامدی نے مارچ 2025 میں دبئی-شارجہ کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک جام پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلسل جام لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

سب سے زیادہ ٹریفک کب ہوتا ہے؟
تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ ٹریفک سہ پہر کے وقت ہوتا ہے، اس کے بعد صبح کے اوقات میں دفتر جانے اور بچوں کو اسکول چھوڑنے کے دوران بھی ٹریفک شدید ہوتا ہے۔ اختتام ہفتہ کی سرگرمیاں، دوپہر کے اسکول چھٹیاں، اور روزمرہ کے کام کاج بھی ٹریفک میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

ٹریفک بڑھنے کی بڑی وجوہات
سڑکوں پر بہت زیادہ گاڑیاں

  • تمام دفاتر اور اسکولوں کا ایک ہی وقت پر آغاز

  • ذاتی گاڑیوں پر زیادہ انحصار

  • کم سواری بھرنے والی گاڑیاں

  • محدود ہوم آفس کلچر

  • ناقص روڈ ڈیزائن

  • عوامی ٹرانسپورٹ کی کمی

  • متبادل سفری ذرائع کی بنیادی سہولیات کا فقدان

حل کیا ہو سکتا ہے؟
عوام نے تجویز دی کہ ٹریفک مسائل پر قابو پانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں:

  • ہوم آفس اور ریموٹ ورکنگ کو فروغ دیا جائے

  • پبلک ٹرانسپورٹ بہتر کی جائے

  • سڑکوں کے نیٹ ورک کو وسعت دی جائے

  • عوامی بس سروسز میں اضافہ کیا جائے

روڈ سیفٹی یو اے ای کے منیجنگ ڈائریکٹر تھامس ایڈلمن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ متعلقہ ادارے عوام کی رائے کو سمجھ سکیں اور اسی کے مطابق بہتری کے اقدامات کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button