
(خلیج اردو )متحدہ عرب امارات میں کینسل ویزوں پر 17 نومبر سے پہلے ملک واپس جانے پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔ متحدہ عرب امارات میں عام قانون ہے کہ ویزہ کینسل ہونے کے بعد 30 دنوں کے اندر متحدہ عرب امارات سے جانے پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا مگر جب کمپنی ویزہ کینسل کرے اور رقم ادائیگی میں تاخیر کرے اور 30 دن گزر جائے تو پھر اس وقت بھی ورکرز پرکوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا ۔
اگر ویزہ ایکسپائر ہونے سے پہلے کینسل کیا جائے تو ورکرز یا نیا ویزہ لگوا سکتاہے یا پھر ٹکٹ لے کر متحدہ عرب امارات سے 30 دنوں کے اندر نکل سکتا ہے ۔اگر ویزہ کی معیاد ختم ہونے کے بعد ویزہ کینسل کیا جائے تو 30 دنوں کے اندر متحدہ عرب امارات سے نکل جانا چاہئے جس کے بعد جرمانے کا اطلاق ہوگا ۔ اگر ویزہ کینسل کرنے کے بعد 30 دنوں کے اندر کمپنی کے ذمہ رقم کی ادائیگی ممکن نہ بنائی جائے یا پھر ٹکٹ میں تاخیر سے کام لیا جائے تو ورکرز پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا اور جرمانہ کمپنی کو داد کرنا پڑھے گا ۔
وفاقی امیگریشن قانون کے آرٹیکل 21 کے مطابق اگر ورکر کا ویزہ ختم ہوچکا ہو اور 30 دنوں کے اندر تجدید نہ کی جائے تو دن گزرنے کے بعد یومیہ 100 درہم جرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔
اگر جون میں ویزہ ختم ہوا ہو اور 30 دنوں کے اندر کینسل نہ کیا جائے تو جرمانے کا طلاق ہوگا جس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ کمپنی کے خلاف بقایاجات کی عدم ادائیگی اور ویزہ نہ کینسل کرنے کی کمپلینٹ کی جائے ۔
اگر کمپنی کے خلاف کمپلینٹ کی جاچکی ہو کہ کام سے فارغ کرنے کے بعد ایک مہینہ تک کمپنی نے نہ ویزہ کینسل کیا اور نہ ہی بقایاجات ادا کئے تو جرمانہ کمپنی کو ادا کرنا ہوگا جو کہ منسٹیریل قرارداد نمبر 707 ،2006 کی آرٹیکل 11 کے مطابق ہے ۔
اگر ویزہ کینسل ہونے کے بعد ورکرز متحدہ عرب امارات سے نکل جانے کا ارادہ کرچکے ہوں اور اس واسطے ٹکٹ لینے کا بندوبست شروع کیا ہوا ہو اور 30 دن گزر جائے تب بھی ورکرز پر کوئی اضافہ جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا ۔
مگر کویڈ 19 کہ وجہ سے اگست 17 کے فیصلے کی روشنی میں 17 نومبر تک کینسل ویزہ پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا ۔
Source: Khaleej Times







