خلیج اردو
03 نومبر 2020
دبئی: متحدہ عرب امارات آپ کا حق کوئی نہیں کھا سکتا۔ کوئی کتنا بھی طاقتور کیون نہ ہو قانون کی گرفت سے کوئی نہیں نکل سکتا۔ اگر آپ کی تنخواہ کوئی ادا نہ کرتا ہو یا اس میں تاخیر کررہا ہو تو اس کیلئے قانون میں طریقہ کار موجود ہے۔
اگر آپ کو سیلری میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑرہا ہو۔ تو جانیے کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت انسانی وسائل اور امریٹائزیشن کا ورکرز کو پروٹیکٹ کرنے کا مضبوط نظام موجود ہے جو مزدوروں کو ان کی تنخواہوں کی عدم عدائیگی یا تاخیر میں مدد دیتا ہے۔
وزارت افرادی قوت کے 2016 کے قانون نمبر 739 کے مطابق مزدوروں کی مزدوری محفوظ ہے۔ تمام مزدوروں کو ویجز پروٹیکشن سسٹم ( وی پی ایس ) کے نظام کو سبسکرائب کرکے اپنی تنخواہیں مقررہ تاریخ پر پایئیں۔
اس نظام کے تحت ملازمین کی تنخواہیں ان کے اکاؤنٹ میں مقررہ دن پر منتقل ہوں گی ۔ یہ نظام متحدہ عرب امارات کے سنٹرل بنک سے تصدیق شدہ ہے۔ کمپنیوں کو اس نظام کے ساتھ خود کو رجسٹرڈ کرنا ہوگا۔ جن کمپنیوں نے رجسٹریشن نہیں کی ان کی تنخواہوں کے عمل پر کوئی پیش رف نہیں ہوگی۔
اگر آمر کسی کی تنخواہ 10 دنوں تک ادائگی میں ناکام ہوجائے تو اس کو لیٹ سیلری کہا جاتا ہے۔ ایک کمپنی کسی ملازم کو ایک مہینے میں تنخواہ کی ادائگی نہ کرے تو اسے عدم ادائگی کہا جائے گا۔
اگر کمپنیون کے ساتھ ورکرز کی تعداد 100 یا اس سے زائد ہے اور وہ دس دنوں میں تنخواہ ادا نہیں کرتی تو انہیں سولویں دن پر ورک پرمٹ نہیں دیا جائے گا۔ جو کمپنی ایک مہینے تک تنخواہوں کی ادائگی نہ کریں انہیں عدالتی عمل سے گزارا جائے گا۔
ایسے کمپنی کے مالکان پر جرمانہ عائد ہوگا اور ان کے باقی کمپنیوں کو بھی جرمانہ کیا جائے گا اور وہ کوئی نئی کمپنی رجسٹر نہیں کر پائیں گے۔ کمپنی نے جو رقم بنک کے ساتھ بطور گرنٹی رکھی ہوگی اسے ضطب کیا جائے گا۔ کمپنی کی گریڈنگ میں کمی کی جائے گی اور اسے تھرڈ کیٹگری میں رکھا جائے گا۔ ورکرز کو اجازت ہوگی کہ وہ دوسری کمپنی جا سکیں۔
اگر کسی کمپنی نے 100 ورکرز کی تنخواہ 50 دنوں تک ادا نہیں کی تو کمپنی کو 5 ہزار درہم فی ورکر کے حساب سے جرمانہ ہوگا۔ 50 ہزار تک کا زیادہ سے زیادہ جرمانہ عائد ہوگا۔
اس صورت میں جب ایک کمپنی سال میں ایک سے زائد مرتبہ افراد قوت کے تنخواہوں کے نظام کی خلاف ورزی کرے گا ، وزارت ان پر پابندی عائد کرے گی۔ اس حوالے سے کسی بھی شکایت کیلئے 80060 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
Source: Gulf News







