
خلیج اردو
دو اماراتی کزنز نجلا الحاجری اور جواہر الحرمودی نے ایک ایسا کاروبار شروع کیا ہے جو نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ ثقافتی شناخت کو بھی زندہ کرتا ہے۔ ’آراؤنڈ آور فریج‘ کے نام سے شروع کیے گئے اس کارڈ گیم کے کاروبار کا مقصد اماراتی نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرنا ہے، خاص طور پر ان نوجوانوں کے ساتھ جن کی توجہ صرف موبائل فون اور سطحی گفتگو تک محدود ہو گئی ہے۔
یہ کارڈ گیمز روزمرہ اماراتی کرداروں اور روایتی داستانوں پر مبنی ہیں، جن میں ’ام الدویس‘ جیسے دیومالائی کردار اور ’عمی منصور‘ جیسے معروف اماراتی شخصیات شامل ہیں۔ ان کا تازہ ترین گیم ’لا تزعل‘ (اداس مت ہو) ایسے کرداروں کو سامنے لاتا ہے جو ہر اماراتی کے لیے مانوس اور ذاتی نوعیت رکھتے ہیں۔
نجلا اور جواہر نے یہ منصوبہ اس وقت شروع کیا جب وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور پڑھائی کا دباؤ بھی برداشت کر رہی تھیں۔ تاہم، دونوں نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کاروبار کو بھی وقت دینا ضروری سمجھا۔ نجلا کے مطابق، "ہم نے ہفتے کا ایک دن خاص طور پر کاروبار کے لیے مخصوص کر رکھا تھا، چاہے امتحان ہو یا کوئی اور مصروفیت، ہم اس دن کو ضائع نہیں کرتے تھے۔”
ان کارڈ گیمز کا مقصد صرف کھیل ہی نہیں بلکہ گہرے سماجی رابطے کو فروغ دینا ہے۔ ایک گیم ’لا تحلف‘ (قسم نہ کھاؤ) میں کھلاڑیوں کو اسٹریٹجک انداز میں گفتگو اور تجزیہ کرنا ہوتا ہے تاکہ ایک چھپے ہوئے کردار کو پہچانا جا سکے۔ نجلا کہتی ہیں، "جب بھی میں ان گیمز کو مختلف گروپوں کے ساتھ کھیلتی ہوں، تو ان کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، جو بہت خوشگوار تجربہ ہوتا ہے۔”
ان گیمز کو آن لائن اسٹور کے ذریعے اور شارجہ میں مختلف تقریبات میں پاپ اپ شاپس کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے۔ انسٹاگرام پر ان کا صفحہ ’Aroundourfreej‘ 4700 فالوورز حاصل کر چکا ہے، جو ان کے کام کو سراہنے والے ایک فعال سامعین کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ کارڈ گیمز نہ صرف خاندانی میل جول کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن رہے ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنی ثقافت کے قریب لانے کی ایک مؤثر کوشش بھی ہیں۔





