
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سی بی ایس ای سے منسلک بھارتی اسکولوں کے سربراہان نے کہا ہے کہ بھارت کے نئے تین زبانوں کے تعلیمی فریم ورک میں خلیجی ممالک کے اسکولوں کے لیے خاطرخواہ نرمی موجود ہے، جس سے والدین اور اساتذہ کے خدشات کافی حد تک کم ہوگئے ہیں۔
بھارت کے Central Board of Secondary Education نے 2026-27 تعلیمی سال سے جماعت نہم اور دہم کے طلبہ کے لیے تین زبانوں پر مشتمل نیا نظام متعارف کرایا ہے، جو بھارت کی نئی قومی تعلیمی پالیسی اور نیشنل کریکولم فریم ورک کے تحت نافذ کیا جارہا ہے۔
نئے نظام کے مطابق طلبہ کو آر ون، آر ٹو اور آر تھری کے تحت تین زبانیں پڑھنا ہوں گی۔ ابتدا میں خلیجی ممالک کے اسکولوں میں اس بات پر تشویش پائی جارہی تھی کہ طلبہ کو دو بھارتی زبانیں لازمی پڑھنا پڑیں گی، تاہم اسکول سربراہان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک قائم اسکولوں کے لیے صرف ایک بھارتی زبان لازمی ہوگی۔
Sharjah Indian School کے پرنسپل پرمود مہاجن نے بتایا کہ بیرون ملک اسکولوں کے لیے آر ون انگریزی ہوسکتی ہے جبکہ آر ٹو کے طور پر ہندی، ملیالم، اردو یا تامل منتخب کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں آر تھری کے طور پر عربی زبان برقرار رکھی جاسکے گی۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جماعت دہم میں صرف آر ون اور آر ٹو کا بورڈ امتحان ہوگا جبکہ آر تھری یعنی عربی کا نتیجہ داخلی جائزے اور گریڈنگ کی بنیاد پر مارک شیٹ میں شامل کیا جائے گا۔
Cosmopolitan International Indian School کے پرنسپل محمد علی کوٹاککولم نے کہا کہ پہلے یہ شرط غیرملکی طلبہ کے لیے مشکل بن رہی تھی کیونکہ دو بھارتی زبانوں کی لازمی شرط دیگر قومیتوں کے بچوں کے لیے چیلنج تھی، تاہم نئی وضاحت سے بیرون ملک اسکولوں اور خصوصی طلبہ کو بڑی سہولت ملی ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کے اسکول اب سی بی ایس ای کے مجوزہ عالمی نصاب کے منتظر ہیں، جس سے بیرون ملک اسکولوں کی ضروریات کو مزید بہتر انداز میں پورا کیا جاسکے گا۔
دوسری جانب بعض اسکولوں نے فرانسیسی زبان کے مستقبل پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ Shining Star International School کی پرنسپل ابھلاشا سنگھ نے کہا کہ ان کے اسکول میں ہندی، اردو، ملیالم، تامل اور فرانسیسی زبان پڑھائی جاتی ہے، تاہم نئے نظام میں آر ٹو کے تحت فرانسیسی زبان رکھنے والے اسکولوں کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں متوقع عالمی نصاب کے تحت فرانسیسی زبان کو بھی تسلیم کرلیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سی بی ایس ای کی نئی پالیسی خلیجی ممالک میں بھارتی نصاب کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ کے لیے نسبتاً آسان ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً عربی زبان کو اضافی بورڈ امتحان سے مستثنیٰ قرار دینے کے بعد۔







