
خلیج اردو
دبئی:امریکہ کی تارکین وطن کے ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلی نے مڈل ایسٹ اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے درخواست دہندگان کے لیے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ موٹاپا یا خصوصی ضروریات والے بچوں کے حامل افراد کو تارکین وطن ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
دبئی میں مقیم امریکی وکیل اور امریکن لیگل سینٹر کے ڈائریکٹر شائی زمانیان نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع اختیارات کے تحت ویزا فیصلوں میں ایک نئے معیار کا اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مڈل ایسٹ کے درخواست دہندگان کے لیے ویزا حاصل کرنا مشکل اور کم متوقع ہو گیا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جن کے پاس مکمل طبی ریکارڈ یا طویل مدتی انشورنس نہیں ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے امریکی سفارت خانوں سے کہا ہے کہ ویزا جاری کرتے وقت موٹاپے سمیت دیگر طبی حالات کو مدنظر رکھا جائے، کیونکہ موٹاپا طویل مدتی مہنگی نگہداشت کا سبب بن سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، موٹاپا ایک پیچیدہ دائمی بیماری ہے جو ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماری، ہڈیوں اور تولید پر اثر ڈال سکتی ہے اور بعض کینسر کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔ امریکہ میں تقریباً 40 فیصد آبادی موٹاپا کی شکار ہے۔
زمانیان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کا مقصد زیادہ تر غیر ملکی درخواست دہندگان کو روکنا ہے اور امریکی سپریم کورٹ اس سال ان اختیارات کی حدود کا جائزہ لے گی۔
امریکی سفارت خانے کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ یہ پالیسی صرف تارکین وطن کے لیے ہے، مختصر مدتی دوروں یا وزٹ پر آنے والے غیر ملکیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔
زمانیان نے GCC کے درخواست دہندگان کو مشورہ دیا کہ وہ ویزا درخواست سے پہلے مکمل طبی اور مالی دستاویزات تیار رکھیں تاکہ قونصلر جائزے کے دوران کسی غیر یقینی صورتحال سے بچا جا سکے۔







