متحدہ عرب امارات

فلپائنی شہریوں کے لیے 65 ممالک کا ویزا فری سفر ممکن، عالمی پاسپورٹ رینکنگ میں بہتری

خلیج اردو
دبئی: فلپائن کے شہریوں کے لیے دنیا بھر کی سیر و سیاحت کا خواب مزید قریب آ گیا ہے۔ ہینلے اینڈ پارٹنرز کے پاسپورٹ انڈیکس 2025 کے مطابق فلپائن کا عالمی سفری درجہ 72 ویں نمبر پر آ گیا ہے، جو 2024 کے مقابلے میں ایک درجہ بہتری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فلپائنی پاسپورٹ رکھنے والے اب 65 ممالک میں ویزا فری، ویزا آن آرائیول یا آسان الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ای ٹی اے) کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں۔

ویزا فری ممالک
فلپائنی شہری ان ممالک میں بغیر ویزا کے سفر کر سکتے ہیں:

* بارباڈوس
* بولیویا
* برازیل
* برونائی
* کمبوڈیا
* کولمبیا
* کک آئی لینڈز
* کوسٹا ریکا
* آئیوری کوسٹ
* ڈومینیکا
* ایتھوپیا
* فجی
* ہیٹی
* ہانگ کانگ
* انڈونیشیا
* قازقستان
* کریباتی
* لاؤس
* مکاؤ
* مڈغاسکر
* ملیشیا
* مائکرونیشیا
* منگولیا
* مراکش
* میانمار
* نیو
* فلسطین
* پیرو
* روانڈا
* سینیگال
* سنگاپور
* سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز
* سورینام
* تائیوان
* تاجکستان
* تھائی لینڈ
* گیمبیا
* وانواتو
* ویتنام

ویزا آن آرائیول ممالک
ان ممالک میں پہنچ کر ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے:

* برونڈی
* کیپ وردے
* کوموروس آئی لینڈز
* جبوتی
* ایتھوپیا
* گنی بساؤ
* ایران
* کرغزستان
* ملاوی
* مالدیپ
* مارشل آئی لینڈز
* ماریشس
* موزمبیق
* نیپال
* نکاراگوا
* پلاؤ
* ساموا
* صومالیہ
* سینٹ لوشیا
* تنزانیہ
* مشرقی تیمور
* ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو
* تووالو

ای ویزا (آن لائن ویزا) والے ممالک
ان ممالک میں آن لائن درخواست دے کر ویزا حاصل کیا جا سکتا ہے:

* البانیا
* اینٹیگوا و باربوڈا
* آرمینیا
* آذربائیجان
* بہاماس
* بحرین
* بنگلہ دیش
* بینن
* بوٹسوانا
* برکینا فاسو
* کیمرون
* کانگو
* کیوبا
* ایکویٹوریل گنی
* گبون
* جارجیا
* گنی
* بھارت
* موریتانیا
* مالڈووا
* مونٹسیراٹ
* نائجیریا
* عمان
* پاکستان
* پاپوا نیو گنی
* قطر
* روس
* ساؤ ٹومے و پرنسپے
* جنوبی افریقہ
* سینٹ کٹس اینڈ نیوس
* شام
* ٹوگو
* ترکیہ
* یوگنڈا
* یوکرین
* متحدہ عرب امارات
* ازبکستان
* زیمبیا
* زمبابوے

**ای ٹی اے (الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن)**
تیز اور آسان منظوری کے لیے درج ذیل ممالک میں ای ٹی اے حاصل کیا جا سکتا ہے:

* کینیا
* اسرائیل
* سیشلز
* سری لنکا

فلپائنی شہریوں کے لیے اب دنیا کی سیر کا خواب پہلے سے زیادہ قابلِ حصول بن چکا ہے، جبکہ ویزا کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button