خلیج اردو آن لائن:
ابوظہبی پولیس کی جانب سے شہریوں سے ہدایت کی ہے کہ اگر انہیں بھتہ خوری یا بلیک میلنگ جیسے کسی بھی جرم کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی واقع کی رپورٹ کسی بھی وقت امن کمیونیکیشن چینل کے ذریعے آسانی کسے کی جا سکتی ہے۔
ان جرائم کی وجہ سے متاثرہ افراد پر کیا اثرات ہوتے ہیں، اس بات پر روشنی ڈالنے کے لیے ابوظہبی پولیس نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون اپنے ساتھ پیش آنے والے واقع کے بارے میں بتاتی ہے۔
متاثرہ خاتون بتاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ایک شخص سے ملی اور دونوں کے درمیان دوستی ہوگی۔ جس کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی تصویریں اور ویڈیوز شیئر کرنے لگے۔ اس شخص نے خاتون نے شادی کے لیے پیغام بھی دیا لیکن پھر وہ اس سے رقم کا مطالبہ کرنے لگا اور انکار کرنے پر تعلق ختم کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ "پہلے تو وہ میرے سے رقم کا مطالبہ کرتا تھا اور دھمکی دیتا تھا کہ اگر میں نے اس بات نہ مانی تو وہ میری ویڈیوز اور تصویریں سوشل میڈیا پر شائع کر دے گا۔ مجھے احساس ہوگیا تھا کہ میں ایک بڑی غلطی کر لی ہے۔ وہ میرے اوپر مسلسل دباؤ ڈالتا جس کی وجہ سے میرے اپنی فیملی کے ساتھ تعلقات خراب ہونے لگے اور دفتر میں میرا کام بھی متاثر ہونے لگا”۔
بہرحال، متاثرہ خاتون کی ایک دوست نے اسے مشورہ دیا کہ وہ امن چینل کے ذریعے اس واقع کی رپورٹ پولیس کے پاس درج کروائے۔
اس جرم کی سزا کیا ہے؟
ابوظہبی پولیس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے 2012 وفاقی قانون نمبر 5 کے مطابق بلیک میلنگ اور بھتہ خوری، دوسروں کی دھمکیاں دینے، یا کسی کی زاتی معلومات انکی مرضی کے بغیر شیئر کرنے کے الزام میں قصور وار ثابت ہونے والے افراد کو قید یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں۔
اس جرم کی کم از کم سزا 2 سال جبکہ جرمانہ 50 ہزار 5 لاکھ کے درمیان ہے۔
لہذا ابوظہبی پولیس نے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ ایسی کسی بھی جرم یا عمل کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔
Source: Gulf News







