متحدہ عرب امارات

کامیابی کے دہانے پر لوگ کیوں ہمت ہار جاتے ہیں؟ خواب ادھورے چھوڑنے کی نفسیاتی وجوہات

خلیج اردو
دبئی: کامیابی کے قریب پہنچ کر ہار مان لینا ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس کا شکار اکثر لوگ ہوتے ہیں۔ ادھوری کہانیاں، ادھورے منصوبے اور خواب جنہیں منزل کے قریب چھوڑ دیا جاتا ہے، زندگی کی حقیقت کا حصہ ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ کیفیت محض ناکامی کا خوف نہیں بلکہ کامیابی کا دباؤ اور عدم استقامت بھی اس رویے کی بڑی وجوہات ہیں۔

ایک نوجوان خاتون مصنفہ نے بتایا کہ انہوں نے گریجویشن کے بعد اپنی پہلی کتاب پر برسوں محنت کی مگر پبلشرز کی تنقید اور مسلسل تاخیر نے ان کا حوصلہ توڑ دیا۔ یوں کتاب مکمل ہونے کے باوجود وہ کبھی شائع نہ ہوسکی اور اب وہ اپنے خواب کو چھوڑ کر عملی زندگی میں مصروف ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ خوابوں کے قریب پہنچ کر اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں۔ دبئی کی ماہر نفسیات ڈاکٹر عائدہ سہیمی کے مطابق اکثر افراد غیر حقیقت پسندانہ اہداف طے کرتے ہیں، جنہیں مخصوص وقت میں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس سے مایوسی بڑھتی ہے اور وہ خواب کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض اوقات اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ خواب ان کی شخصیت اور ترجیحات سے ہم آہنگ نہیں رہتا۔

ایک اور بڑی وجہ جلد نتائج کی خواہش ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ فوراً کامیابی ملے اور جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ اسی طرح معاشرتی دباؤ، دوسروں کے فیصلے اور ناکامی کا طعنہ بھی خواب ادھورے چھوڑنے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کیفیت پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ بڑے خواب کو چھوٹے عملی اہداف میں تقسیم کیا جائے، وقت کی حقیقت کو مدِنظر رکھا جائے اور ناکامی کو سبق سمجھ کر آگے بڑھا جائے۔ دبئی کی ماہر ویلنس نٹالی ہوئر کے مطابق خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے صبر، استقامت اور مسلسل محنت بنیادی ستون ہیں، جبکہ اگر کوئی خواب آپ کی زندگی کے مطابق نہیں رہا تو اسے چھوڑ دینا بھی نقصان دہ نہیں بلکہ بڑے خواب کے لیے راستہ کھول سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button