
خلیج اردو
خلیجی ممالک کے شہری تیزی سے شارجہ میں دوسرا گھر خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہاں جائیداد کی قیمتوں میں بتدریج اور مستحکم اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شارجہ رئیل اسٹیٹ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گزشتہ سال خلیجی شہریوں نے 2 ہزار 55 جائیدادوں میں مجموعی طور پر 3 اعشاریہ 4 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی، جس کے بعد وہ نمایاں سرمایہ کاروں میں شامل ہو گئے ہیں۔
محکمے کی ریسرچ بیورو کی سربراہ لامیہ الجویّد کا کہنا ہے کہ شارجہ میں سیاحت اور خلیجی شہریوں کی آمد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب لوگ اسے دوسرے گھر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق شارجہ کی جائیدادیں نسبتاً سستی ہیں، خاص طور پر الممشا جیسے منصوبے خلیجی خریداروں کو متوجہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ سال دوسرے بڑے سرمایہ کار بنے۔
ماہرین کے مطابق شارجہ کی پراپرٹی مارکیٹ میں گزشتہ سال 10 سے 12 فیصد تک قیمتوں میں اضافہ ہوا اور رواں سال بھی اسی شرح سے ترقی کی توقع ہے۔ شروق کے چیف رئیل اسٹیٹ آفیسر یوسف احمد المطوع نے کہا کہ شارجہ پورے خلیجی خطے سے سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے اور خلیجی شہری طویل عرصے سے یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
الیف گروپ کی سینئر نائب صدر نورین نصراللہ کے مطابق شارجہ حکومت رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں استحکام اور انفراسٹرکچر کے تسلسل پر زور دیتی ہے، جس کے باعث اب زیادہ تر خریدار اینڈ یوزرز ہیں، جبکہ پہلے قلیل مدتی منافع کے لیے خرید و فروخت کا رجحان زیادہ تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شارجہ ایک خاندانی ماحول رکھنے والی ریاست ہے، اسی لیے یہاں زیادہ تر خریدار رہائش کے مقصد سے جائیداد خریدتے ہیں۔ حالیہ قانون کے بعد تمام قومیتوں کو فری ہولڈ منصوبوں میں خریداری کی اجازت ملنے سے واٹر فرنٹ منصوبوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ محدود دستیابی کے باعث ساحلی جائیدادیں سرمایہ کاری کے اعتبار سے سب سے مستحکم سمجھی جا رہی ہیں۔







