
خلیج اردو
بھارت کی جانب سے سونے کے زیورات سے متعلق کسٹمز قوانین میں حالیہ نرمی کے بعد متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں اور سیاحوں کے خریداری کے انداز میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے یو اے ای کی گولڈ مارکیٹ پر بڑا نہیں بلکہ “باریک مگر واضح” اثر ڈالا ہے۔
Malabar Gold and Diamonds کے انٹرنیشنل آپریشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر شملال احمد کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بھارت کے نئے قوانین نے صارفین کی خریداری کی ترجیحات میں مجموعی تبدیلی پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق اب خریدار بھاری زیورات کے بجائے ہلکے وزن کے زیورات کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دوسری جانب Morickap Group کے سی ای او نشین تسلیم کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سونا لے جانے کی اجازت میں اضافے نے یو اے ای کی مجموعی ریٹیل فروخت کو زیادہ متاثر نہیں کیا، تاہم این آر آئیز اور سیاحوں کے خریداری کے انداز میں تبدیلی ضرور آئی ہے۔
نئے قوانین کے تحت بھارت واپس جانے والی خواتین مسافر اب 40 گرام جبکہ دیگر مسافر 20 گرام تک سونے کے زیورات بغیر کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ اس سہولت کے بعد یو اے ای میں 22 قیراط کے بھاری سیٹس کے بجائے 18 قیراط کے ہلکے زیورات، لاکٹ، سکے اور چھوٹے سیٹس کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو نسبتاً 30 سے 40 فیصد تک سستے بھی ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شادیوں کے سیزن کے پیش نظر کئی خاندان اپنی خریداری کو مختلف مسافروں میں تقسیم کر رہے ہیں، یعنی کچھ زیورات یو اے ای سے جبکہ باقی بھارت سے خریدے جا رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کے باعث فی کس خریداری کا حجم کم ہوا ہے مگر مجموعی خریداروں کی تعداد برقرار ہے۔
سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں پہلے لوگ زیورات کو بطور سرمایہ کاری خریدتے تھے، اب وہ 24 قیراط کے سونے کے سکے اور بسکٹ خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ ان پر وی اے ٹی لاگو نہیں ہوتا اور دوبارہ فروخت پر نقصان کا خدشہ کم رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے فرق اور ٹیکس ریفنڈ کی سہولت کے باعث یو اے ای بدستور بھارتی خریداروں کیلئے سونے کی خریداری کا پرکشش مرکز بنا ہوا ہے، تاہم اب بڑے سیٹس کے بجائے ہلکے اور قابلِ برداشت زیورات کی طلب میں واضح اضافہ ہو رہا ہے۔






