Uncategorized

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا اعلان

خلیج اردو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا اعلان کردیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر کھلی رہے گی۔ ان کے مطابق ایرانی ناکہ بندی صرف ایران کے جہازوں اور ان کے خریداروں کی آمد و رفت کو محدود کرے گی جبکہ دیگر تمام ممالک کو اس اہم آبی گزرگاہ سے آزادانہ اور منصفانہ رسائی حاصل ہوگی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور تجارتی جہازوں کے محفوظ گزر کو یقینی بنانے کے لیے اپنے کردار کے بدلے شپنگ فیس وصول کرے گا۔ انہوں نے امریکا کو آبنائے ہرمز کا "محافظ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیس خطے میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی توانائی کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل ہوتا ہے۔

ایران کا ردعمل

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جو ملک آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ فراہم کرتا ہے اسے معاوضہ ملنا چاہیے تاہم انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کا اصل محافظ ہمیشہ ایران رہا ہے اور رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 20 فیصد فیس بہت زیادہ ہے اور ایران منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔

کشیدگی میں اضافہ

گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ ایران نے بحرین، کویت، قطر، عمان اور اردن پر حملے کیے جنہیں اس نے امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی اتوار کو میزائل الرٹ جاری کیا تاہم بعد میں وضاحت کی کہ خطرات ملکی سرحدوں سے باہر تھے اور ملک کی صورتحال مکمل طور پر مستحکم ہے۔

امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا نے ایران کے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ان اقدامات سے خطے میں دوبارہ عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button