
خلیج اردو
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہید ہوگئے، انہوں نے 37 برس تک ایران کی قیادت کی اور مذہبی و سیاسی خدمات انجام دیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا، والد سید جواد خامنہ ای عالم دین تھے۔ ابتدائی تعلیم مشہد کے مدارس میں حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے نجف اور قم تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے آیت اللہ خمینی سمیت ممتاز علما سے فیض حاصل کیا۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں میں وہ شاہ ایران کے خلاف انقلابی تحریک میں سرگرم رہے، کئی مرتبہ گرفتار ہوئے، 3 سال تک جلاوطن رہے اور ایک قاتلانہ حملے میں ان کا دایاں بازو مفلوج ہوگیا۔ 1981 سے 1989 تک دو مدت کے لیے صدر رہے، جبکہ خمینی کی وفات کے بعد جون 1989 میں انہیں رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ بطور سپریم لیڈر ان کی مدت اقتدار 37 سال پر محیط رہی، اور وہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے سربراہِ مملکت رہے۔
قم اور مشہد کے مدارس میں کئی دہائیوں تک خارج فقہ اور اصول کی تعلیم دیتے رہے، قرآن کریم کی تفسیر اور نہج البلاغہ پر گراں قدر کام کیا، ان کی مقبول تصانیف میں "قرآن میں اسلامی فکر کا خاکہ” شامل ہے۔ دنیا بھر میں ان کے ہزاروں شاگرد موجود ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شادی 1964 میں منصورہ خجستہ باقرزادہ سے ہوئی، ان کے چھ بچے ہیں، جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ چاروں بیٹے ایران کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کی بیٹی، نواسی، داماد، بہو اور 40 سے زائد حکام سمیت 200 سے زائد افراد شہید ہوگئے۔ خامنہ ای کی شہادت کو ظالموں کے خلاف جدوجہد میں بغاوت اور نیا آغاز قرار دیا گیا۔






