
خلیج اردو
موجودہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات سے انخلا کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض مرکزی راستہ بن گیا، نجی طیاروں کے کرایے کئی لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر سعودی عرب، ریاض اب دبئی اور ابوظہبی سے انخلا کے لیے نیا ٹرانزٹ مرکز بن گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امیر خاندان اور عالمی سطح کے ایگزیکٹوز دبئی اور ابوظبی سے ریاض منتقل ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریاض سے یورپ جانے والے نجی طیاروں کا کرایہ 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ عمان کے راستے بند ہونے کے بعد ریاض واحد محفوظ اور قابلِ استعمال آپشن سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران محفوظ اور فوری انخلا کو یقینی بنانا ہے۔







