
خلیج اردو آن لائن:
صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز غزہ کی تعمیر نو کے لئے کوششوں کو منظم کرنے میں مدد کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام تنازع کا "واحد حل” ہے۔
بائیڈن نے اسرائیلیوں سے کہا ہے کہ وہ یروشلم شہر کے فلیش پوائنٹ فلسطینیوں کے ساتھ لڑائی بند کرے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "اسرائیل کی سلامتی کے لئے میری عزم میں کوئی ردوبدل نہیں ہے” اور انہوں نے مزید کہا کہ جب تک یہ خطہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا ہے "وہاں کوئی امن نہیں ہوگا۔”
خیال رہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دو ریاستی حل کئی دہائیوں کی بین الاقوامی سفارت کاری کا سنگ بنیاد رہا ہے جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کو ختم کرنا ہے۔ اور اس حل میں یروشلم کو دونوں ریاستوں کے مشترکہ دارالحکومت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں انکی پالیسی صرف اسرائیل کے حق ہی میں تھی۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی پالیسی کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔
Source: Gulf Today.







