عالمی خبریں

ایلون مسک کی بجٹ بل پر تنقید، نئی سیاسی جماعت بنانے کی تجویز، سابق صدر ٹرمپ کا سخت ردعمل

خلیج اردو
واشنگٹن – ٹیکنالوجی کے معروف سرمایہ کار ایلون مسک نے ٹرمپ انتظامیہ کے متنازع کانگریشنل بجٹ بل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے امریکی عوام کے ساتھ "بڑا دھوکہ” قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بل کے نتیجے میں امریکہ کا قومی قرضہ 5 کھرب ڈالر تک جا سکتا ہے، جو ملک کے مالی استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہے۔

مسک نے ریپبلکن پارٹی کو طنزیہ انداز میں "پورکی پگ پارٹی” کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ "صاف لگتا ہے کہ ہم ایک یک جماعتی ملک میں رہ رہے ہیں، جہاں سیاست صرف اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کے لیے ہو رہی ہے۔” انہوں نے تجویز پیش کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ میں ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جائے جو عوامی مسائل، مالیاتی شفافیت اور قومی خودمختاری کو اولین ترجیح دے۔

ایلون مسک کی تنقید پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ برہم ہو گئے اور کہا کہ "اگر سرکاری کفایت شعاری کا نگران ادارہ مسک کی کمپنیوں کو دی گئی مالی معاونت کی جانچ کرتا تو شاید ان کا نقطہ نظر مختلف ہوتا۔” ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اگر سیٹلائٹس لانچ کرنا اور برقی گاڑیاں تیار کرنا بند کر دے تو اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہے۔

سابق صدر کا مزید کہنا تھا کہ "اگر ایلون مسک کو حکومتی مالی امداد نہ ملتی تو وہ شاید اپنی فیکٹریاں بند کر کے جنوبی افریقہ واپس جا چکے ہوتے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ ایلون مسک کو انسانی تاریخ میں کسی بھی فرد کے مقابلے میں سب سے زیادہ حکومتی امداد ملی ہے۔

سیاسی و تجزیاتی حلقوں میں اس لفظی جنگ کو سنجیدہ مالیاتی پالیسی کے ساتھ ساتھ مستقبل کی سیاسی تقسیم کا ابتدائی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button