عالمی خبریں

ایران کے مختلف شہروں میں اسرائیلی فضائی حملے، اہم فوجی قیادت و جوہری سائنسدان شہید، شدید جوابی کارروائی

خلیج اردو
تبریز/تہران: ایران کے شمال مغربی شہر تبریز میں ہوائی اڈے کے قریب ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جب کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے آٹھ مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے گئے جن میں ایرانی فوجی اور جوہری قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، ایرانی آرمی چیف میجر جنرل محمد باقری، جوہری سائنسدان فرید عباسی اور محمد مہدی، جبکہ ختم الانبیا ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد شہید ہو گئے۔

ان حملوں کے دوران ایران کے جوہری تنصیبات کے قریب بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ تہران، کرمان شاہ اور خرم آباد سمیت کئی شہروں میں بھی زوردار دھماکے ہوئے، جن کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بمباری سے کم از کم 5 افراد شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی ردعمل کے طور پر اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز داغے گئے ہیں، جن میں بعض نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ایران کے وزیر دفاع نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اسرائیل کی شیطانی حکومت کا جلد خاتمہ ہوگا”۔

ادھر اردن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی فضائی حدود سے گزرنے والے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرایا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اردنی فضائیہ اور دفاعی نظام نے کئی ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی نشانہ بنایا۔

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اسرائیل نے اپنے تمام ائرپورٹس بند کر دیے ہیں، پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، اور متعدد زیر زمین ہسپتالوں کو فعال کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریزرو فورس کے ہزاروں اہلکاروں کو طلب کر لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کا سامنا کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button