
خلیج اردو
3 ستمبر 2020
پیرس: فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سائنسدانوں نے اب تک کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے جس کی جسامت زمین کے مقابلے میں 142 گنا بڑی ہے۔
1500 سے زائد سائنسدانوں کی کنسورشم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں دریافت شدہ GW190521 کے مقابلے میں یہ بلیک ہول بہت بڑا اور پرانا ہے۔
یورپین گریٹیوشنل ابزرویٹری میں ماہر آسٹروفزکس سٹیورس کٹسانواس جو رس رپورٹ کی شریک مصنفہ بھی ہیں ، کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت بلیک ہول بنانے کے کوسمک مرحلے کیلئے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ بلاشبہ یہ ایک نئی دنیا ہے۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں بتایا کہ یہ اتنی بڑی سطح پر بلیک ہول کی موجودگی کا پہلا ثبوت ہے۔ اس سے بلیک ہولز کے اسٹروفزکس میں نیا پیراڈیم شفٹ آسکتا ہے۔
رپورٹ سے اس نظریہ کو تقویت ملتی ہے کہ بلیک ہولز گریویٹشنل لہروں سے اور پھر چھوٹے بلیک ہولز کی ملاپ سے بڑے بلیک ہولز بنتے ہیں۔ دراصل بلیک ہولز وہ گرویٹیشنل لہریں ہیں جو ہزاروں سال پہلے بنیں۔
گرویٹیشنل ویوز کو پہلی مرتبہ 2015 میں ماپا گیا جس سے دو ماہرین طبیعات کو نوبل پرائس ملا۔
البرٹ آئن اسٹائس نے اپنے مشہور نظریہ جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی میں بتایا تھا کہ گریوٹیشنل ویوز کائننات میں روشنی کی رفتار سے پھیلتیں ہیں۔
یاد رہے کہ جب سائنسدانوں نے GW190521 کو دریافت کیا تھا تو انہوں نے سات بلین سال پہلے پیدا ہونے والی گریویٹشنل لہروں کے ملاپ سے پیدا ہونے والے بلیک ہولز کو پایا تھا۔
Source : Khaleej Times







