
خلیج اردو
مسقط: امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکاف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز کیا۔ عمانی وزیر خارجہ نے مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔
امریکہ اور ایران کے وفود مسقط میں ایک ہی عمارت کے الگ الگ ہالز میں مقیم تھے، اور فریقین نے عمانی وزیر خارجہ کے ذریعے اپنے مؤقف اور پوزیشن کا تحریری طور پر تبادلہ کیا۔ دونوں وفود کے سربراہوں کی کچھ دیر کے لیے براہ راست گفتگو بھی ہوئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، واشنگٹن کے ساتھ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ مذاکرات کے پہلے دور میں جوہری مسئلے اور ایران پر امریکی پابندیوں کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا تھا کہ ایران ٹرمپ کی درخواست قبول کرے یا سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو نیوکلیئر پروگرام محدود کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی تھی۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی ٹرم کے دوران 2016 میں معاہدہ ختم کیا تھا۔







