
خلیج اردو
تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ایک بار پھر انتہاؤں کو چھونے لگی، ایران نے اسرائیل پر بارہویں بار شدید میزائل اور ڈرون حملہ کرتے ہوئے کئی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق، حملے میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ، کمیونیکیشن اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ساتھ واقع فوجی اسپتال "سروکا” کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ تاہم، اسپتال کو پیشگی خالی کرا لیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، ایران نے اس حملے میں پہلی بار دو مراحل پر مشتمل جدید سجیل میزائل استعمال کیے، جن کی رفتار اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت نے اسرائیلی دفاعی نظام کو چیلنج کر دیا۔ تل ابیب، بیت المقدس، حیفہ اور دیگر اہم شہروں میں کم از کم سات بڑے دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جن کے نتیجے میں 200 سے زائد اسرائیلی زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28 تک جا پہنچی ہے۔ مجموعی زخمیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل کی معیشت کو بھی نشانہ بنایا، جہاں مرکزی اسٹاک مارکیٹ کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ یہ عمارت اسرائیل کے مالیاتی نظام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس حملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے "جابرحکمرانوں” کو اسپتال پر حملے کی "بھاری قیمت” چکانا پڑے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی میزائلوں نے نہ صرف سروکا اسپتال بلکہ وسطی اسرائیل کی شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا دفاعی نظام فوری طور پر فعال کیا گیا تاہم ایران کے جدید میزائلوں کی وجہ سے ان کا مکمل روک تھام ممکن نہ ہو سکی۔
صورتحال کے پیش نظر اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جبکہ خطے میں ایک اور ممکنہ محاذ آرائی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔







