
خلیج اردو
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطے میں ایران سے جاری جنگ کے جلد خاتمے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔
کریملن کے مطابق گفتگو کے دوران پیوٹن نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ جنگ کو جلد ختم کر کے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔
دوسری جانب روس نے یورپی ممالک کو توانائی کی فراہمی کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے یورپی یونین کو ایل این جی کی سپلائی مکمل طور پر روکنے کا عندیہ دیا ہے۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ یورپی یونین کے ممالک روسی ایل این جی اور دیگر توانائی کے ذرائع پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے جواب میں روس بھی اپنے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کو ہدایت دی کہ یورپی مارکیٹ میں توانائی کی سپلائی روکنے کے امکان کا فوری جائزہ لیا جائے اور اس معاملے میں کسی بیرونی اشارے کا انتظار نہ کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر روس نے یورپ کو ایل این جی کی سپلائی بند کر دی تو اس سے توانائی کے عالمی بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے اور عالمی منڈیوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔







