خلیج اردو آن لائن:
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فرانس میں حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یہ بات پیر کے روز جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کیا ۔
جرمن چانسلر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ” آزادی اظہار ایک اخلاقی قدر ہونی چاہیے جو لوگوں کےد رمیان احترام اور بقائے باہمی پھیلائے نہ کہ نفرت اور ثقافتی اور تہذیبی ٹکراؤ پیدا کرے”۔
شاہ سلمان نے آسٹریا اور فرانس میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کی بھی مذمت کی۔
سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں رہنما نے ہر قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر رضامندی کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے مسلمان ممالک کی جانب سے فرانس کے خلاف غم وغصے کا ظہار کیا جا رہا ہے۔ فرانس کے خلاف مسلم ممالک کا احتجاج فرانسیسی صدر کے متنازع بیان کے بعد شروع ہوا ہے۔ جس میں فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ نبی کریم کے خاکوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
میکرون کی جانب سے یہ بیان ایک فرانسیسی سکول ٹیچر کا سر قلم کیے جانے کے واقع کے بعد سامنے آیا تھا۔ سکول ٹیچر کا سر توہین رسالت کے الزام میں قلم کیا گیا تھا۔
جس کے 29 اکتوبور کو نیس شہر میں ایک چرچ پر چاکو سے حملہ ہوا جس میں تین افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔
تاہم، ملک بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر میکرون کو کہنا پڑا کہ فرانسیسی حکومت گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کو سپورٹ نہیں کرتی ہے۔
Source: Gulf News







