خلیج اردو آن لائن:
سعودی عرب کے مقامی میڈیا کے مطابق سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے تمام سعودی باشندوں سے ترکی کی تمام مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ جس میں برآمدات، سرمایہ کاری، سیاحت شامل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ترکش مصنوعات کا بائیکاٹ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ کی طرف سے ایسا مطالبہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے گلف ممالک کےبارے میں ایک بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔
رجب طیب اردگان کی جانب سے حال ہی میں دیےگئے بیان میں کہا گیا تھا کہ گلف میں کچھ ایسے ممالک ہیں جو ترکی کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ریجن کو عدم توازن کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔
اردگان نے جمعے کے روز ترکی کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ” یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مذکورہ ممالک کل وجود نہیں رکھتے تھے اور ممکنا طور پر آنے والے کل میں بھی نہیں ہوں گے۔ تاہم، اللہ نے چاہا تو ہمارا جھنڈا اس خطے میں ہمیشہ کے لیے لہلہائے گا”۔
اردگان کے اس خطاب کے بعد سعودی عرب کی طرف سخت رد عمل سامنے آیا ہے، جس میں چیمبر آف کامرس کی جانب سے تمام ترکش مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ ہے۔
اگر سعودی چیمبر آف کامرس کے سربراہ کے اس مطالبے پر عمل ہوتا ہے تو اس ترکی سے ہزاروں ایکسپورٹرز متاثر ہوں گے۔
جبکہ ترکی کی معیشت پہلے ہی نیچے گر رہی ہے۔ سوموار کے روز ترکش کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلے میں 7 اشاریہ7 کی کم ترین سطح پر آگیا تھا۔
نجی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس سال لیرا کی کارکردگی باقی کرنسیوں سے سب سے بری رہی ہے۔
ترکی میں 2018 میں شروع ہونے والے کرنسی کے بحران اور کورونا وائرس کے حالیہ بحران نے مل کر ملک میں کساد بازاری کا بحران پیدا کردیا ہے۔
Source: Gulf News







