
خلیج اردو
چونگ چنگ: چین کے صنعتی اور مصروف شہر چونگ چنگ میں، جہاں عام طور پر مرچ والے نوڈلز اور فلک بوس عمارتیں مشہور ہیں، وہاں ایک غیر متوقع شخصیت عالمی شہرت حاصل کر رہی ہے — رائن چن، جو خود کو “چائنیز ٹرمپ” کہتا ہے۔
تیس کی دہائی میں عمر رکھنے والے چن، جو پہلے مارکیٹنگ مینیجر تھے، اپنی حیران کن اداکاری اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مخصوص انداز کی نقل سے چین کے مقبول ترین ٹرمپ نقل باز بن چکے ہیں۔ ان کی نقل میں ٹرمپ کی مخصوص آواز، ہاتھوں کے اشارے اور بے ترتیب جملے شامل ہوتے ہیں، جنہوں نے انہیں عالمی سطح پر پہچان دلائی۔
چن نے 2024 کے آخر میں ایک سوشل میڈیا چیلنج کے طور پر ٹرمپ کی نقل شروع کی۔ ابتدا میں یہ محض تفریحی کوشش تھی لیکن چند ہی ہفتوں میں ان کی ویڈیوز نے لاکھوں ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے امریکی ریئلٹی شو "دی اپرنٹس” دیکھ کر ٹرمپ کے لہجے اور انداز پر عبور حاصل کیا۔
ایک رات انہوں نے دوستوں کے اصرار پر ڈوئین (چین کا ٹک ٹاک) پر لائیو سیشن کے دوران ٹرمپ بن کر کہا: “دوستو، مان لیجیے چونگ چنگ دنیا کا سب سے زبردست شہر ہے، کوئی ہاٹ پاٹ ایسے نہیں بناتا جیسے ہم بناتے ہیں!” یہ ویڈیو اگلی صبح تک وائرل ہو گئی۔
2025 کے آغاز میں چن نے اپنی نوکری چھوڑ کر مکمل وقت اس کردار کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی ویڈیوز میں طنز، ثقافتی تبصرے اور مزاح کا امتزاج ہوتا ہے — جیسے “ٹرمپ” کی زبان میں چونگ چنگ کے آسمان کو “بہت بڑا، زبردست، نیویارک کے جعلی خبروں سے بھی اونچا” قرار دینا، یا امریکا چین کشیدگی پر کہنا “ٹیرف؟ ہم ڈمپلنگز کی دیوار بنائیں گے!”
چن کے مطابق ان کا مقصد کسی کو ناراض کرنا نہیں بلکہ صرف مسکراہٹیں بانٹنا ہے۔ ان کی ویڈیوز میں اکثر انگریزی جملے بھی شامل ہوتے ہیں تاکہ چینی ناظرین سیکھ سکیں۔
امریکی اسٹریمر “اسپیڈ” کے ساتھ ان کا ایک لائیو سیشن، جس میں انہوں نے کہا “اسپیڈ، تم نوکری سے برطرف ہو، جب تک یہ سٹریٹ فوڈ نہیں چکھ لیتے، پھر بحال ہو جاؤ گے!”، عالمی سطح پر وائرل ہوا۔
ٹک ٹاک، یوٹیوب اور ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ان کے کلپس لاکھوں بار شیئر کیے جا چکے ہیں۔ امریکی نیٹ ورکس NBC اور CNN نے بھی ان کے انٹرویوز نشر کیے، جن میں انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا: “شی جن پنگ اور میں بہترین ڈیل کریں گے — بہت بڑی، یقین مانیے!”
چن کے انداز کو ماہرین امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کی آئینہ داری قرار دیتے ہیں۔ جہاں دو طرفہ تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے، وہیں چن کا ہلکا پھلکا طنز دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نرم تعلق اور تفہیم کی علامت بن چکا ہے۔
چن کا کہنا ہے، “اگر کوئی بات مزاحیہ نہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہنسی ہی میرا ہتھیار ہے۔”






