
خلیج اردو
واشنگٹن: صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ قازقستان نے باضابطہ طور پر ابراہیم معاہدوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ عشائیے کے دوران کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ "میں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ قازقستان، جو ایک شاندار ملک ہے اور ایک عظیم رہنما رکھتا ہے، نے باضابطہ طور پر ابراہیم معاہدوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عالمی سطح پر امن اور تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ "آج مزید ممالک امن اور خوشحالی کے اس راستے کو اپنانے کے لیے صف میں کھڑے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ایک باضابطہ دستخطی تقریب جلد منعقد کی جائے گی۔ "ہم جلد ہی اس کی رسمی تقریب کا اعلان کریں گے، اور کئی مزید ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ دنیا میں استحکام، ترقی اور حقیقی نتائج کے لیے یہ ایک مثبت سنگ میل ہے۔”
یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغزستان، ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان کے رہنماؤں سے C5+1 سربراہی اجلاس میں ملاقات کی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، قازقستان کی شمولیت کو “برف کی چوٹی” قرار دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزید مسلم اکثریتی ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے میامی میں ایک مالیاتی کانفرنس کے دوران عندیہ دیا تھا کہ وہ “آج رات واشنگٹن واپس جا رہے ہیں تاکہ ابراہیم معاہدوں سے متعلق اعلان میں شرکت کر سکیں۔”
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف سے ملاقات کی جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔
قازقستان کے صدارتی دفتر کے مطابق، ملک "کثیر الجہتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے تعمیری مکالمے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔”






