عالمی خبریں

ایران جوہری تنازع کا حل چاہتے ہیں، لیکن فی الحال بات چیت کا موڈ نہیں: صدر ٹرمپ

خلیج اردو
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئے تہران خالی کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ کینیڈا میں جی 7 اجلاس کے بعد وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر دباؤ میں مزید شدت لائی جائے گی اور اسرائیلی حملے کسی صورت کم نہیں ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے حقیقی اور دیرپا خاتمے کے خواہاں ہیں، تاہم اس وقت ایران کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس دو دن کا وقت ہے، اگر اس نے مثبت اقدام نہ اٹھایا تو نتائج سنگین ہوں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی ایک وقتی حل ہے، جبکہ وہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو جوہری خطرے کا مکمل اور مستقل خاتمہ کرے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ سینیٹر جے ڈی وینس یا وٹکوف یاجے کو ایران بھیجنے پر غور کیا جا سکتا ہے، مگر صرف اس صورت میں جب ایران سنجیدگی سے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے ہی جو معاہدہ پیش کیا گیا تھا، اگر اسے قبول کر لیتا تو آج خطے میں کشیدگی نہ ہوتی۔ ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ اسرائیل حملوں کی رفتار میں کمی نہیں لائے گا اور ایران کو جلد فیصلہ کرنا ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر ایران بات کرنا چاہتا ہے تو اسے بخوبی علم ہے کہ یہ کیسے اور کس سے کرنی ہے، لیکن وقت محدود ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button